اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 475
475 اصحاب بدر جلد 5 کون سی چیز اس زمانے میں حاضر ہونے کی تمنا پر مجبور کر رہی ہے جس سے اللہ نے اسے غائب رکھا۔پھر کہنے لگے کہ ہمیں کیا معلوم کہ اگر یہ اس وقت ہوتا تو کس مقام پر ہو تا۔پھر انہوں نے کہا کہ اللہ کی قسم ! رسول الله صلى ا م کا زمانہ تو ایسے لوگوں نے بھی پایا جنہیں اللہ نے اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دیا کیونکہ انہوں نے رسول اللہ صلی ا لینک کو نہ مانا اور نہ ہی آپ کی تصدیق کی۔اب یہ جو کہہ رہا ہے کہ کیا پتا اس وقت اس کی قسمت میں کیا تھا۔اگر تصدیق نہ کرتا تو پھر دوزخ میں جاتا۔پھر آگے کہنے لگے کہ تم اللہ کی حمد کیوں نہیں کرتے کہ اس نے تمہیں ایسے وقت میں پیدا کیا جس میں تم صرف اپنے رب کو پہچاننے والے ہو۔کسی قسم کا شرک نہیں کرتے۔اپنے رب کو پہچانتے ہو۔رسول پر ایمان لاتے ہو اور اپنے نبی کی لائی ہوئی شریعت کی تصدیق کرنے والے ہو اور اللہ نے دوسروں کے ذریعہ تمہیں آزمائشوں سے بچالیا۔پہلے لوگ تھے یا اس زمانے کے دوسرے لوگ تھے آزمائشوں میں سے گزرے۔تمہیں اللہ نے ان آزمائشوں سے بچالیا ہے۔تم اس پر خدا کا شکر ادا کرو۔پھر کہنے لگے کہ خدا کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی للی کم کو جاہلیت کے زمانے میں بھیجا اور فترة وحی کے زمانے میں جو کسی بھی نبی کی بعثت کے زمانے سے سب سے زیادہ سخت زمانہ تھا یعنی وہ زمانہ جب ایک لمبا عرصہ کے بعد نزول ہو ا۔ایک نبی کے بعد دوسرے نبی کے درمیان جو وقفہ ہے اس میں وحی نہیں ہوتی یا اس سے ایک لمبا عرصہ تھا جو ایک نبی اور دوسرے نبی کے درمیان کا ہوتا ہے اور اس میں انبیاء کی وحی نہیں ہوتی۔اس لفظ کو فترة کہتے ہیں۔تو کہتے ہیں جو لمبا عرصہ تھا جس میں وحی نہیں ہوئی یا آنحضرت صلی ا یکم مبعوث نہیں ہوئے وہ زمانہ بڑا لمبا تھا جس میں شرک بھی پھیل گیا۔پھر آپ نے کہا کہ یہ بڑا سخت زمانہ تھا۔لوگ بتوں کی پوجا کرتے تھے اور اس سے افضل کسی کو نہیں مانتے تھے۔پھر رسول اللہ صلی للی علم فرقان کے ساتھ مبعوث ہوئے جس نے حق و باطل میں فرق کر دیا اور والد اور بیٹے کے درمیان فرق کر دیا حتی کہ ایک آدمی اپنے والد، بیٹے یا بھائی کو کافر سمجھتا تھا جبکہ اللہ نے اس کے دل کا تالا ایمان کے لیے کھول دیا تھا۔پھر کہتے ہیں کہ وہ جانتا تھا کہ اگر وہ کفر کی حالت میں مر گیا تو دوزخ میں جائے گا۔اس کی آنکھیں ٹھنڈی نہ ہوتی تھیں جب اسے معلوم ہو تا تھا کہ اس کا محبوب جہنم میں رہے گا۔یہی وجہ ہے کہ جب اسلام جو انہوں نے قبول کر لیا اور آنحضرت صلی اللی کم کو مان لیا تو وہ اپنے رشتہ داروں کے بارے میں فکر مند رہتے تھے اور پتا تھا کہ قبول نہیں کریں گے۔اگر مخالفت کریں گے تو جہنم میں جائیں گے اور اس کے لیے پھر کہتے ہیں کہ یہی وجہ ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ: وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَةَ أَعْيُنٍ ( الفرقان: 75) کہ اور وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہمیں اپنے جیون ساتھیوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا کر۔1101 تو پس یہ دعا ہے جو ہمیشہ کرنی چاہیے تاکہ نسلوں میں بھی دین قائم رہے۔اور اللہ کا جو فضل ہوا ہے اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔