اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 461
461 296 اصحاب بدر جلد 5 نام و نسب حضرت معوذ بن عمرو بن جموح حضرت معوذ بن عمرو بن جموح - حضرت معوذ کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کے خاندان بنو جسم سے تھا۔3 1063 رض حضرت معوذ کے والد کا نام عمرو بن جموح اور ان کی والدہ کا نام ہند بنت عمرو تھا۔حضرت معوذ بن عمرو بن جموح اپنے دو بھائیوں حضرت معاذ اور حضرت خلاد کے ساتھ غزوہ بدر میں شامل ہوئے تھے اس کے علاوہ یہ غزوہ احد میں بھی شامل ہوئے تھے۔جہاد اور شہادت کا شوق اور جذبہ 1064 حضرت معوذ بن عمرو " کے والد وہی عمرو بن جموح ہیں جن کو ان کے بیٹوں نے ان کی لنگڑاہٹ کی وجہ سے پاؤں کی تکلیف کی وجہ سے بدر میں شامل نہیں ہونے دیا تھا۔اس کا ذکر میں پہلے بھی ایک دفعہ خطبے میں کر چکا ہوں۔مختصر آبتادوں کہ جب احد کا موقع آیا تو حضرت عمرو بن جموح نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ بدر کے موقعے پر تم نے مجھے جنگ پر جانے نہیں دیا تھا لیکن اب میں ضرور جاؤں گا۔احد کی جنگ میں تم مجھے روک نہیں سکتے۔ان کے بیٹوں نے بہتیرا کہا کہ آپ کی ٹانگ خراب ہے۔آپ پہ تو جنگ ضروری بھی نہیں ہے۔ایسے حالات میں فرض نہیں ہے لیکن حضرت عمرو بن جموح نہیں مانے۔رسول اللہ صلی الم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ یارسول اللہ ! میرے بیٹے میرے پاؤں کی تکلیف کی وجہ سے جنگ میں مجھے شامل ہونے سے روک رہے ہیں لیکن میں آپ کے ساتھ جہاد میں شامل ہونا چاہتا ہوں۔رسول اللہ صلی للی یکم نے بھی یہی فرمایا کہ جہاں تک تمہارا تعلق ہے تمہیں اللہ تعالیٰ نے معذور قرار دیا ہے اور تم پر اس وجہ سے جہاد فرض نہیں ہے لیکن پھر آپ نے انہیں ان کا وہ جوش دیکھ کے، شوق دیکھ کے اجازت بھی دے دی۔حضرت عمرو بن جموح نے اپنا جنگ کا سازوسامان لیا اور یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ اے اللہ ! مجھے شہادت عطا فرما اور مجھے ناکام و نامراد اپنے اہل وعیال کی طرف نہ لوٹانا اور پھر حقیقتا ان کی یہ خواہش پوری ہوئی اور وہ میدان احد میں شہید ہوئے۔ان کی شہادت کے بعد ان کی بیوی حضرت ہند نے انہیں اور اپنے بھائی عبد اللہ بن عمرو کو بھی ایک سواری پر رکھا اور ان دونوں کو ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا۔رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا کہ اس ذات کی