اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 433
اصحاب بدر جلد 5 433 جائے اور ابو عبیدہ بن جراح " بھی فوت ہو چکے ہوں تو معاذ بن جبل کو اپنا خلیفہ مقرر کر دوں گا اور اگر میرے رب عز و جل نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے اسے کیوں خلیفہ مقرر کیا تو میں کہوں گا کہ میں نے تیرے رسول صلی ای کم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ وہ قیامت کے دن علماء کے آگے آگے لائے جائیں گے۔996 997 علم میں ان کا بہت مقام ہو گا۔حضرت معاذ بن جبل اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح “ نے جنگ یرموک 15 ہجری کے موقعے پر میمنہ ، وہ حصہ جو لڑائی کے وقت فوج کا جو کمانڈر ہوتا ہے اس کے دائیں طرف کھڑ ا ہوتا ہے اس کے ایک حصے کا افسر مقرر کیا۔عیسائیوں کا حملہ اس قدر سخت ہوا کہ مسلمانوں کا میمنہ ٹوٹ کر فوج سے الگ ہو گیا لوگ بکھر گئے۔جب حضرت معاذ نے یہ حالت دیکھی تو نہایت شجاعت اور ثابت قدمی کا ثبوت دیا اور گھوڑے سے نیچے اتر گئے اور کہا کہ میں اب پیادہ پالڑوں گا۔اگر کوئی بہادر اس گھوڑے کا حق ادا کر سکتا ہے تو گھوڑا اس کے لیے حاضر ہے۔ان کے بیٹے بھی میدانِ جنگ میں موجود تھے انہوں نے کہا میں اس کا حق ادا کروں گا کیونکہ میں سوار ہو کر اچھالڑ سکتا ہوں۔غرض دونوں باپ بینا رومی فوج کو چیر کر اندر گھس گئے اور اس دلیری سے لڑے کہ مسلمانوں کے اکھڑے ہوئے پاؤں پھر سنبھل گئے۔اور جو خوف کی حالت تھی وہ پھر انہوں نے دوبارہ ان کو شکست دے کے مسلمانوں کو فتح دلوادی۔ابوادر میں خولانی بیان کرتے ہیں کہ میں شام میں دمشق کی مسجد میں داخل ہوا تو وہاں چپکتے دانتوں والا نوجوان موجود تھا اور اس کے گرد لوگ جمع تھے۔جب لوگوں کا کسی بات پر اختلاف ہو تا تو وہ معاملہ اس کے پاس لے جاتے اور اس کی رائے کو فوقیت دیتے تو میں نے ان کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا کہ یہ حضرت معاذ بن جبل ہیں۔اگلے روز میں دوپہر کے وقت گیا تو دیکھا کہ وہ میرے سے پہلے دو پہر کے وقت وہاں موجود تھے۔میں نے دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہے ہیں۔میں نے ان کا انتظار کیا۔جب انہوں نے نماز ادا کر لی تو میں ان کے سامنے گیا اور انہیں سلام کیا۔میں نے ان سے کہا کہ اللہ کی قسم ! مجھے اللہ کی خاطر آپ سے محبت ہے۔حضرت معاذ نے کہا اللہ کی قسم !میں نے کہا اللہ کی قسم !حضرت معاذ نے پھر کہا، پھر سوال کیا اللہ کی قسم! میں نے کہا اللہ کی قسم۔پھر انہوں نے میری چادر کا کنارہ پکڑ کر مجھے اپنی طرف کھینچا اور کہا کہ خوش ہو جاؤ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی الایام کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ عز و جل نے یہ فرمایا ہے کہ میری خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والوں، میری خاطر ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنے والوں، میری خاطر ایک دوسرے سے ملنے والوں اور میری خاطر ایک دوسرے پر خرچ کرنے والوں کے لیے میری محبت لازم ہو گئی۔یعنی اللہ تعالیٰ کی محبت لازم ہو گئی۔28 ایک روایت میں ہے کہ حضرت معاذ بن جبل کی دو بیویاں تھیں جب باری کے مطابق ایک کے پاس ہوتے تو دوسری کے پاس پانی تک بھی نہیں پیتے تھے۔اتنا انصاف تھا۔998