اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 434
اصحاب بدر جلد 5 999 434 ایک اور روایت ہے کہ حضرت معاذ بن جبل کی دو بیویاں تھیں۔جس دن ایک کی باری ہوتی دوسری کے گھر میں وضو تک نہیں کرتے تھے۔پھر دونوں ملک شام میں وبائی بیماری میں فوت ہو گئیں۔ان دونوں کو ایک ہی قبر میں دفن کیا گیا۔دفن کرتے وقت حضرت معاذ نے قرعہ ڈالا کہ پہلے کس کو قبر میں داخل کریں۔یہ ان کا انصاف تھا۔ایک اور روایت ہے سیر الصحابہ کی کہ حضرت معاذ کی دو بیویاں تھیں۔اور وہ دونوں طاعون عمو اس سے وفات پاگئی تھیں۔جبکہ ایک بیٹے کا پتا چلتا ہے جس کا نام عبد الرحمن بیان ہوا ہے اور وہ جنگ یر موک میں حضرت معاذ کے ساتھ شامل تھے ان کی وفات بھی طاعون عمواس سے ہوئی۔( یعنی طاعون کی وہ و باجو اس زمانے میں پھیلی تھی ) 1000 وفات 1002 جب حضرت ابو عبیدہ کی طاعون عمواس سے وفات ہوئی تو حضرت عمرؓ نے حضرت معاذ کو شام پر عامل مقرر فرمایا۔عمو اس یہ ایک بستی کا نام ہے۔میں اس کی تفصیل پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ یہ رملہ سے سات میل کے فاصلے پر ہے اور بیت المقدس کے راستے پر واقع ہے۔حضرت معاذ کی بھی اسی سال اسی طاعون سے وفات ہوئی۔1001 کثیر بن مرہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت معاذ نے اپنی بیماری میں ہمیں فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی علیم سے ایک بات سنی تھی جسے میں نے تم سے چھپا کر رکھا تھا۔میں نے رسول اللہ صلی لی کام کو سنا۔آپ نے فرمایا جس کا آخری کلام لا اله الا اللہ ہو اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔ایک دوسری روایت میں ہے کہ حضرت معاذ نے فرمایا کہ تمہیں یہ حدیث بتانے میں صرف یہ نے بات مانع تھی کہ کہیں تم اس پر ہی بھروسانہ کر لو اور باقی عمل چھوڑ دو۔1003 جب شام میں طاعون پھیلی اور حضرت معاذ بن جبل کو بھی طاعون ہو گئی تو اس کی وجہ سے ان پر غشی طاری ہو گئی۔جب ذرا سنبھلے تو کہا: ے اللہ اب اپنا مجھ پرمسلط کر دے۔تیری عزت کی قسم ابو جانتا ہے کہ میں تجھ سے محبت کرتا ہوں۔پھر ان پر غشی طاری ہو گئی۔پھر جب ذرا سنبھلے تو دوبارہ ایسا ہی کہا۔جب حضرت معاذ بن جبل کی وفات کا وقت قریب پہنچا تو فرمایا دیکھو صبح ہو گئی ہے ؟ کہا گیا کہ ابھی صبح نہیں ہوئی۔یہاں تک کہ جب صبح ہوئی تو کہا گیا کہ صبح ہو گئی ہے۔حضرت معاذ نے کہا کہ میں اس رات سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں جس کی صبح جہنم کی طرف لے جائے۔میں موت کو خوش آمدید کہتا ہوں۔میں اپنے محبوب سے ملنے والے کو خوش آمدید کہتا ہوں جو ایک مدت کے بعد آ رہا ہے۔اسے اللہ اتو جانتا ہے کہ میں تجھ سے ڈرتا ہوں لیکن آج کے دن میں پُر امید ہوں۔میں دنیا اور لمبی زندگی سے اس لیے