اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 407 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 407

اصحاب بدر جلد 5 407 ان کی زیارت کر لو اور ان پر سلام جنگ احد میں مسلمانوں کا جو حوصلہ تھا اس کے پست ہونے کی یہ بھی ایک بڑی وجہ ہوئی تھی لیکن بہر حال بعد میں اکٹھے بھی ہو گئے۔رسول اللہ صلی علی کل جب حضرت مصعب کی نعش کے پاس پہنچے تو ان کی نعش چہرے کے بل پڑی تھی۔نبی کریم صلی للہ ہم نے اس کے پاس کھڑے ہو کر یہ آیت تلاوت فرمائی کہ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَ مَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا - (الاحزاب :24) کہ مومنوں میں سے ایسے مرد ہیں جنہوں نے جس بات پر اللہ سے عہد کیا تھا اسے سچا کر دکھایا۔پس ان میں سے وہ بھی ہے جس نے اپنی منت کو پورا کر دیا اور ان میں سے وہ بھی ہے جو ابھی انتظار کر رہا ہے اور انہوں نے ہر گز اپنے طرز عمل میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔اس کے بعد نبی کریم صلی تعلیم نے فرمایا۔إِنَّ رَسُولَ اللهِ يَشْهَدُ أَنَّكُمُ الشُّهَدَاء عِنْدَ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ- کہ خدا کا رسول گواہی دیتا ہے کہ تم لوگ قیامت کے دن بھی اللہ کے ہاں شہداء ہو۔پھر آپ صلی علیہم نے صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ان کی زیارت کر لو اور ان پر سلام بھیجو۔اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے روز قیامت تک جو بھی ان پر سلام کرے گا یہ اس کے سلام کا جواب دیں گے۔حضرت مصعب کے بھائی حضرت ابورُوم بن محمیر حضرت سُوَیبط بن سعد اور حضرت عامر بن ربیعہ نے حضرت مُصْعَب لو قبر میں اتارا۔931 شہید ہوئے تو ان کے پاس اتنا کپڑا بھی نہیں تھا کہ۔۔۔الله سة سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اس طرح بیان فرماتے ہیں کہ : " احد کے شہداء میں ایک صاحب مصعب بن عمیر تھے۔یہ وہ سب سے پہلے مہاجر تھے جو مدینہ میں اسلام کے مبلغ بن کر آئے تھے۔زمانہ جاہلیت میں مُصْعَب " مکہ کے نوجوانوں میں سب سے زیادہ خوش پوش اور بانکے سمجھے جاتے تھے اور بڑے ناز و نعمت میں رہتے تھے۔اسلام لانے کے بعد ان کی حالت بالکل بدل گئی۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ آنحضرت صلی علیہم نے ایک دفعہ ان کے بدن پر ایک کپڑا دیکھا جس پر کئی پیوند لگے ہوئے تھے۔آپ کو ان کا وہ پہلا زمانہ یاد آ گیا تو آپ چشم پر آب ہو گئے۔احد میں جب مُصْعَب شہید ہوئے تو ان کے پاس اتنا کپڑا بھی نہیں تھا کہ جس سے ان کے بدن کو چھپایا جا سکتا۔پاؤں ڈھانکتے تھے تو سر ننگا ہو جاتا تھا اور سر ڈھانکتے تھے تو پاؤں کھل جاتے تھے۔چنانچہ آنحضرت صلی علیم کے حکم سے سر کو کپڑے سے ڈھانک کر پاؤں کو گھاس سے چھپا دیا گیا۔" پھر وہ رونے لگے یہاں تک کہ کھانا چھوڑ دیا صحیح بخاری میں روایت ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف کے سامنے افطار کے وقت کھانالا یا گیا اور وہ روزے سے تھے۔کہنے لگے کہ مصعب بن عمیر شہید ہوئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے۔وہ ایک ہی 93211 رض