اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 408 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 408

اصحاب بدر جلد 5 408 چادر میں کفنائے گئے۔اگر ان کا سر ڈھانپا جاتا تو ان کے پاؤں کھل جاتے۔اگر پاؤں ڈھانپے جاتے تو ان کا سر کھل جاتا۔راوی کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ یہ بھی کہا کہ حمزہ شہید ہوئے اور وہ مجھ سے بہتر تھے۔پھر ان کے بعد وہ کہنے لگے ہمیں دنیا کی وہ کشائش ہوئی جو ہوئی یا یوں کہا کہ ہمیں دنیا سے وہ کچھ دیا گیا جو دیا گیا اور ہمیں تو ڈر ہے کہ کہیں ہماری نیکیوں کا بدلہ جلدی ہی نہ مل گیا ہو۔پھر وہ رونے لگے یہاں تک کہ کھانا چھوڑ دیا۔933 اللہ تعالیٰ کا خوف اور خشیت اور اگلے جہان میں اللہ تعالیٰ کا سلوک ان کے سامنے آگیا جس کی وجہ سے وہ جذباتی ہو گئے کہ ایسی کشائش ہمیں مل گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہیں بدلہ نہ دے دیا ہو یہ نہ ہو کہ وہاں جا کے ہمیں کچھ نہ ملے۔حضرت خباب بن ارت روایت کرتے ہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی علیم کے ساتھ وطن چھوڑا۔اللہ تعالیٰ ہی کی رضامندی ہم چاہتے تھے اور ہمارا بد لہ اللہ کے ذمہ ہو گیا۔ہم میں سے ایسے بھی ہیں جو مر گئے اور انہوں نے اپنے بدلے سے کچھ نہیں کھایا۔انہی میں سے حضرت مصعب بن عمیر بھی ہیں اور ہم میں ایسے بھی ہیں جن کا میوہ پک گیا اور وہ اس میوے کو چن رہے ہیں۔حضرت مصعب احد کے دن شہید ہوئے اور ہمیں صرف ایک ہی چادر ملی جس سے ہم ان کو کفناتے۔جب ہم اس سے ان کا سر ڈھانپتے تو ان کے پاؤں کھل جاتے اور اگر ان کے پاؤں ڈھانپتے تو ان کا سر کھل جاتا تو نبی صلی یکم نے ہمیں فرمایا۔ہم ان کا سر ڈھانپ دیں اور ان کے پاؤں پر اذخر گھاس ڈال دیں۔14 934 نبی صلی الل روم کے نقباء میں سے ایک ترمذی کی ایک روایت ہے حضرت علی بن ابو طالب روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلیا ہم نے فرمایا۔ہر نبی کو اللہ تعالیٰ نے سات نجیب رفیق عنایت فرمائے ہیں یا فرمایا کہ نقباء عنایت فرمائے ہیں اور مجھے چودہ عطا کیے گئے ہیں تو ہم نے عرض کیا وہ کون سے ہیں؟ آپ نے فرمایا میں اور میرے دونوں بیٹے، 935 جعفر اور حمزہ، ابو بکر، عمر، مصعب بن عمیر ، بلال، سلمان، مقداد، ابوذر، عمار اور عبد اللہ بن مسعود 5 حضرت عامر بن ربیعہ روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد کہا کرتے تھے کہ حضرت مصعب بن عمیر جب ایمان لائے اس وقت سے غزوہ احد میں شہید ہونے تک میرے دوست اور ساتھی رہے۔وہ ہمارے ساتھ دونوں ہجرتوں میں حبشہ گئے۔مہاجرین میں وہ میرے رفیق تھے۔میں نے ایسا آدمی سکبھی نہیں دیکھا جو ان سے زیادہ خوش اخلاق ہو اور ان سے کم جس سے اختلاف ہو۔6 رسول الله صلى ال م جب غزوہ احد کے بعد مدینہ لوٹے تو آپ کو حضرت مصعب بن عمیر کی بیوی حضرت حمنہ بنت بخش ملیں۔لوگوں نے انہیں ان کے بھائی حضرت عبد اللہ بن جحش کی شہادت کی خبر دی۔اس پر انہوں نے اِنَّا لِلَّهِ وَ اِنَّا اِلَيْهِ رجِعُونَ پڑھا اور ان کے لیے مغفرت کی دعا کی۔پھر لوگوں نے 936