اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 26 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 26

اصحاب بدر جلد 5 ย 26 جنگ جمل اور اس ضمن میں بعض سوالات کا جواب حضرت عمر نے اپنی وفات سے قبل خلافت کی بابت ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔اس حوالے سے صحیح بخاری کی ایک روایت میں یہ تفصیل لکھی گئی ہے کہ جب حضرت عمر کی وفات کا وقت قریب تھا تو لوگوں نے کہا امیر المومنین وصیت کر دیں۔کسی کو خلیفہ مقرر کر جائیں۔انہوں نے فرمایا میں اس خلافت کا حق دار ان چند لوگوں سے بڑھ کر اور کسی کو نہیں پاتا کہ رسول اللہ صلی امین یکم ایسی حالت میں فوت ہوئے کہ آپ ان سے راضی تھے اور انہوں نے یعنی حضرت عمرؓ نے پھر حضرت علی، حضرت عثمانؓ، حضرت زبیر ، حضرت طلحہ، اور حضرت سعد اور حضرت عبد الرحمن بن عوف کا نام لیا اور کہا کہ عبد اللہ بن عمر تمہارے ساتھ شریک رہے گا لیکن اس خلافت میں اس کا کوئی حق نہیں ہے۔گویا یہ بات عبداللہ کو تسلی دینے کے لیے کہی ہے۔اگر خلافت سعد کو مل گئی تو پھر وہی خلیفہ ہو۔ورنہ جو بھی تم میں سے امیر بنایا جائے وہ سعد سے مد دلیتار ہے کیونکہ میں نے اس کو اس لیے معزول نہیں کیا کہ وہ کسی کام کے کرنے سے عاجز تھے اور نہ اس لیے کہ کوئی خیانت کی تھی۔نیز فرمایا میں اُس خلیفہ کو جو میرے بعد ہو گا پہلے مہاجرین کے بارے میں وصیت کرتا ہوں کہ وہ ان کے حقوق ان کے لیے ادا کریں اور ان کی عزت کا خیال رکھیں۔اور میں انصار کے متعلق بھی عمدہ سلوک کرنے کی وصیت کرتا ہوں کہ انہوں نے مہاجرین سے پہلے اپنے گھروں میں ایمان کو جگہ دی۔جو ان میں سے کام کرنے والا ہو اسے قبول کیا جائے۔اور میں سارے شہر کے باشندوں کے ساتھ عمدہ سلوک کرنے کی اس کو وصیت کرتا ہوں کیونکہ وہ اسلام کے پشت پناہ ہیں اور مال کے محصل ہیں اور دشمن کے گڑھنے کا موجب ہیں۔اور یہ کہ ان کی رضامندی سے ان سے وہی لیا جائے جو ان کی ضرورتوں سے بچ جائے۔اور میں اس کو بد وی عربوں کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی وصیت کرتاہوں کیونکہ وہ عربوں کی جڑ ہیں اور اسلام کا مادہ ہیں اور یہ کہ ان کے ایسے مالوں سے لیا جائے جو ان کے کام کے نہ ہوں۔اور پھر انہی کے محتاجوں کو دے دیا جائے۔اور میں اس کو اللہ کے ذمے اور اس کے رسول صلی علیم کے ذمے کرتاہوں۔جن لوگوں سے عہد لیا گیا ہو ان کا عہد ان کے لیے پورا کیا جائے اور ان کی حفاظت کے لیے ان سے مدافعت کی جائے اور ان سے بھی اتنا ہی لیا جائے جتنا ان کی طاقت ہو۔جب آپ فوت ہو گئے تو ہم ان کو لے کر نکلے اور پیدل چلنے لگے تو حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے حضرت عائشہ کو السلام علیکم کہا اور کہا عمر بن خطاب اجازت مانگتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان کو اندر لے آؤ۔چنانچہ ان کو اندر لے گئے اور وہاں ان کے دونوں ساتھیوں کے ساتھ رکھ دیے گئے۔جب ان کی تدفین سے فراغت ہوئی تو وہ آدمی جمع ہوئے جن کا نام حضرت عمرؓ نے لیا تھا۔حضرت عبد الرحمن بن عوف نے کہا اپنا معاملہ اپنے میں سے تین آدمیوں کے سپر د کر دو۔حضرت زبیر نے کہا میں نے اپنا اختیار حضرت عبد الرحمن بن عوف کو دیا۔حضرت عبد الرحمن نے حضرت علیؓ اور حضرت عثمان سے کہا آپ دونوں میں سے جو بھی اس امر سے دستبردار ہو گا ہم اسی کے حوالے اس معاملے کو کر دیں گے اور اللہ اور اسلام اس کا نگران ہوں۔اور وہ ان میں سے اسی کو تجویز کرے گا جو اس کے نزدیک افضل ہے یعنی اللہ تعالٰی کے