اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 389
اصحاب بدر جلد 5 389 میرے آنسو خشک ہو گئے۔یہاں تک کہ آنسوؤں کا ایک قطرہ بھی محسوس نہ ہوا۔میں نے اپنے باپ سے کہا۔اس وقت حضرت عائشہ نے حضرت ابو بکر کو کہا کہ رسول اللہ صلی یکم کو میری طرف سے جواب دیجئے۔انہوں نے کہا بخدا میں نہیں جانتا کہ میں رسول اللہ سے کیا کہوں۔کیا بات کروں۔کیا جواب دوں۔یہی چاہتی ہوں گی ناں کہ میری بریت کا جواب دیں۔پھر میں نے اپنی ماں سے کہا۔آپ ہی رسول اللہ صلی علیکم کو جو آپ نے فرمایا ہے اس کا میری طرف سے جواب دیں۔انہوں نے کہا بخدا میں نہیں جانتی کہ میں رسول اللہ صلی الل ظلم سے کیا کہوں۔حضرت عائشہ کہتی تھیں کہ میں کم عمر لڑکی تھی۔قرآن مجید کا اس وقت مجھے زیادہ علم نہیں تھا۔بہر حال میں نے اس کے باوجو د اس وقت کہا کہ بخدا مجھے معلوم ہو چکا ہے کہ آپ لوگوں نے وہ بات سنی ہے جس کا لوگ آپس میں تذکرہ کرتے ہیں۔یعنی یہ جو چکا مجھ پر بڑا گندا الزام لگایا گیا ہے ، وہ بات آپ کے دلوں میں بیٹھ گئی ہے۔اور آپ نے اسے درست سمجھ لیا ہے۔بلکہ یہ کہتی ہیں میں نے کہا کہ آپ نے شاید سمجھ لیا ہے کہ یہ درست ہے۔اور اگر میں آپ سے کہوں کہ میں بری ہوں۔میں نے ایسا کچھ نہیں کیا اور اللہ جانتا ہے کہ میں فی الواقعہ بری ہوں تو آپ مجھے اس میں سچا نہیں سمجھیں گے کیونکہ اتنا مشہور ہو چکا ہے اور لوگ اتنی زیادہ باتیں کر رہے ہیں کہ شاید یہ ہو جائے کہ میں سچی نہیں ہوں۔اور اگر میں آپ کے پاس کسی بات کا اقرار کر لوں حالانکہ اللہ جانتا ہے کہ میں بری ہوں اور میں نے ایسی کوئی غلط حرکت نہیں کی تو آپ اس اقرار پر مجھے سچا سمجھ لیں گے۔اگر اقرار کرلوں تو آپ سچا سمجھ لیں کہ ہاں شاید بات ٹھیک ہی ہو گی۔کہتی ہیں کہ میں نے کہا کہ اللہ کی قسم ! میں اپنی اور آپ صلی علیم کی کوئی مثال نہیں پاتی سوائے یوسف کے باپ کی۔انہوں نے کہا تھا کہ صبر کرنا ہی اچھا ہے اور اللہ ہی سے مددمانگنی چاہئے۔حضرت یعقوب نے یوسف کے بھائیوں کو جو کہا تھا کہ اللہ ہی سے اس بات میں مدد مانگنی چاہئے جو تم لوگ بیان کر رہے ہو۔کہتی ہیں میں نے یہ آیت پڑھ دی۔اس کے بعد میں ایک طرف ہٹ کر اپنے بستر پر آگئی اور میں امید کرتی تھی کہ اللہ تعالیٰ مجھے بری کرے گا۔وہ جانتی تھیں میں بے گناہ ہوں اللہ تعالیٰ بری کرے گا لیکن کہتی ہیں کہ بخدا مجھے یہ گمان نہیں تھا کہ میرے متعلق بھی کوئی وحی نازل ہو گی۔یہ تو خیال تھا کہ اللہ تعالیٰ بری کر دے گا لیکن یہ خیال نہیں تھا کہ اس حد تک، یہاں تک ہو جائے گا کہ اللہ تعالیٰ میری بریت کے بارہ میں وحی نازل کرے بلکہ میں اپنے خیال میں اس سے بہت اونی تھی کہ میری نسبت قرآن کریم میں بیان کیا جائے۔میں اپنے آپ کو اس قابل نہیں سمجھتی تھی کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں میرے بارے میں کوئی وحی کرے لیکن مجھے یہ امید ضرور تھی کہ رسول اللہ صلی علیکم نیند میں کوئی ایسی خواب دیکھ لیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بری قرار دیتا ہے۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ اللہ کی قسم ! آپ ابھی بیٹھنے کی جگہ سے الگ نہیں ہوئے تھے اور نہ اہل بیت میں سے کوئی باہر گیا تھا کہ اتنے میں آپ پر وحی نازل ہوئی اور وحی کے دوران جو سخت تکلیف آپ کو ہوا کرتی تھی وہ آپ کو ہونے لگی۔آپ کو اتنا پسینہ آتا تھا کہ سردی کے دن میں بھی آپ سے پسینہ موتیوں کی طرح ٹپکتا تھا۔الله سة