اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 388
اصحاب بدر جلد 5 388 کے سوا کوئی علم نہیں۔یعنی کہ حضرت عائشہ کے بارے میں جس پر الزام لگایا ہے اور میرے گھر والوں کے پاس جب بھی وہ آیا کرتے میرے ساتھ ہی آتے۔اس پر حضرت سعد بن معاذ کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! بخدا میں اس سے آپ کا بدلہ لوں گا جس نے یہ الزام لگایا ہے۔اگر وہ اوس کا ہوا تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔اگر وہ ہمارے بھائیوں خزرج سے ہوا تو جو بھی آپ ہمیں حکم دیں گے ہم آپ کا حکم بجالائیں گے۔اس پر سعد بن عبادہ کھڑے ہوئے اور وہ خزرج قبیلہ کے سردار تھے اور اس سے پہلے وہ اچھے آدمی تھے لیکن قومی عزت نے انہیں بھڑ کا یا اور انہوں نے کہا تم نے غلط کہا۔اللہ کی قسم ! نہیں مارو گے اور نہ ایسا کر سکو گے۔بحث شروع ہو گئی۔اس پر اُسید بن حضیر کھڑے ہو گئے۔تیسرا شخص بھی کھڑا ہو گیا اور انہوں نے کہا کہ تم نے غلط کہا ہے۔اللہ کی قسم ! اللہ کی قسم !اہم اسے ضرور مارڈالیں گے جس نے بھی الزام لگایا ہے۔اور پھر یہاں تک کہ دیا کہ تو تو منافق ہے جو منافقوں کی طرف جھگڑتا ہے۔اس پر دونوں قبیلے اوس اور خزرج بھڑک اٹھے۔آپس میں غصہ میں آگئے ، طیش میں آگئے۔یہاں تک کہ لڑائی شروع ہو گئی۔شروع تو نہیں ہوئی لیکن لڑنے کے قریب تھے ، کہتے ہیں لڑنے پر آمادہ ہو گئے۔رسول اللہ صلی علیکم منبر پر کھڑے تھے آپ اترے اور ان کو ٹھنڈا کیا یہاں تک کہ وہ خاموش ہو گئے اور آپ صلی علیہ کم بھی خاموش ہو رہے۔حضرت عائشہ کہتی ہیں، یہ روایت چل رہی ہے۔بخاری کی لمبی روایت ہے کہ میں سارا دن روتی رہی۔نہ میرے آنسو تھمتے اور نہ مجھے نیند آتی۔میرے ماں باپ میرے پاس آگئے۔میں دورا نہیں اور ایک دن اتنا روئی کہ میں سمجھی کہ یہ رونا میرے جگر کو شق کر دے گا۔میں ختم ہو جاؤں گی۔کہتی تھیں کہ اسی اثناء میں کہ وہ دونوں میرے پاس بیٹھے ہوئے تھے یعنی ماں باپ بیٹھے ہوئے تھے اور میں رورہی تھی کہ اتنے میں ایک انصاری عورت نے اندر آنے کی اجازت چاہی۔میں نے اسے اجازت دے دی۔وہ بھی بیٹھ کر میرے ساتھ رونے لگی۔ہم اسی حال میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ میں حضرت ابو بکر کے گھر میں اندر آئے اور بیٹھ گئے۔اور اس سے پہلے جس دن سے مجھ پر تہمت لگائی گئی تھی آپ میرے پاس نہیں بیٹھے تھے۔دور سے حال پوچھ کر چلے جایا کرتے تھے یا ملازمہ سے حال پوچھ کے چلے جایا کرتے تھے اور جب گھر آگئی ہیں تو وہاں پوچھتے تھے۔بہر حال اُس دن آئے اور کہتی ہیں میرے پاس بیٹھے اور آپ ایک مہینہ منتظر رہے۔مگر میرے متعلق آپ کو کوئی وحی نہ ہوئی۔جس دن سے یہ الزام لگا تھا مہینہ گزر گیا تقریباً اور آپ میرے پاس بیٹھے نہیں تھے لیکن اس دن آکر بیٹھے اور آنحضرت صلی اللہ علم اس انتظار میں تھے کہ اللہ تعالیٰ کچھ بتادے گا۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ آپ نے تشہد پڑھا پھر آپ نے مجھے فرمایا کہ عائشہ ! مجھے تمہارے متعلق یہ بات پہنچی ہے۔پہلی دفعہ یہ بات آنحضرت صلی علیہ ہم نے حضرت عائشہ سے کی۔سو اگر تم بڑی ہو تو ضرور اللہ تعالیٰ تمہیں بری فرمائے گا اور اگر تم سے کوئی کمزوری ہو گئی ہے تو اللہ سے مغفرت مانگو اور اس کے حضور توبہ کرو کیونکہ بندہ جب اپنے گناہ کا اقرار کرتا ہے اور اس کے بعد تو بہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس پر رحم کرتا ہے۔کہتی ہیں جب رسول اللہ صلی علیم نے بات ختم کر لی تو پہلے چونکہ میں بہت دور ہی تھی