اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 384
اصحاب بدر جلد 5 384 جاتا ہے کہ آپ حضرت علی کے دورِ خلافت تک زندہ رہے اور حضرت علی کے ساتھ جنگ صفین میں شامل ہوئے اور اسی سال 37 ہجری میں وفات پائی۔892 حضرت مسطح وہی شخص ہیں جن کے نان و نفقہ کا بندوبست حضرت ابو بکر کیا کرتے تھے، ان کے ذمہ تھا۔لیکن جب حضرت عائشہ پر تہمت لگائی گئی۔الزام لگایا گیا تو ان لگانے والوں میں مسطح بھی شامل ہو گئے اور حضرت ابو بکڑ نے اس وقت قسم کھائی کہ آئندہ ان کی کفالت نہیں کریں گے جس پر یہ آیت نازل ہوئی که وَلَا يَأْتَلِ أُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَالسَّعَةِ أَنْ يُؤْتُوا أُولِي الْقُرْبى وَالْمَسْكِينَ وَالْمُهجِرِينَ فِي سَبِيلِ اللهِ وَليَعْفُوا وَ ليَصْفَحُوا اَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ - (النور : 23) اور تم میں سے صاحب فضیلت اور صاحب توفیق اپنے قریبیوں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو کچھ نہ دینے کی قسم نہ کھائیں۔پس چاہئے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں۔کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہیں بخش دے اور اللہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔بہر حال یہ آیت نازل ہوئی۔اس پر حضرت ابو بکر نے دوبارہ ان کا نان و نفقہ جاری فرما دیا اور جب اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ کی بریت نازل فرما دی تو پھر بہتان لگانے والوں کو سزا بھی دی گئی۔بعض روایات کے مطابق آنحضرت صلی علیہم نے حضرت عائشہ پر الزام لگانے والے جن اصحاب کو کوڑے لگوائے تھے ان میں حضرت مسطح بھی شامل تھے۔یہ افک کا الزام لگانے کا جو واقعہ ہے یہ کیونکہ ایک بڑا تاریخی، ایک اہم واقعہ ہے۔تاریخی تو نہیں ایک اہم واقعہ ہے اور مسلمانوں کے لئے اس میں سبق بھی ہے اس لئے اس کی تفصیل بھی بڑی کا لکھی گئی ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں قرآن کریم میں آیات بھی نازل فرمائیں۔بہر حال اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : 893 "خدا تعالیٰ نے اپنے اخلاق میں یہ داخل رکھا ہے کہ وہ وعید کی پیشگوئی کو توبہ و استغفار اور دعا اور صدقہ سے ٹال دیتا ہے اسی طرح انسان کو بھی اس نے یہی اخلاق سکھائے ہیں۔" حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس واقعہ کا ذکر کر کے وعدہ اور وعید کے فرق کو ظاہر فرمایا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ "جیسا کہ قرآن شریف اور حدیث سے یہ ثابت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی نسبت جو منافقین نے محض خباثت سے خلاف واقعہ تہمت لگائی تھی اس تذکرہ میں بعض سادہ لوح صحابہ بھی شریک ہو گئے تھے۔" ان کا مقصد فتنہ نہیں تھا۔سادہ لوحی میں شامل ہو گئے۔" ایک صحابی ایسے تھے کہ وہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے گھر سے دو وقتہ روٹی کھاتے تھے۔حضرت ابو بکر نے ان کی اس خطا پر قسم کھائی تھی اور وعید کے طور پر عہد کر لیا تھا کہ میں اس بے جا حرکت کی سزا میں اس کو کبھی روٹی نہ دوں گا۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی تھی : وَلْيَعُفُوا وَ ليَصْفَحُوا اَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ ۖ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (النور:23) تب حضرت ابو بکڑ نے اپنے اس عہد کو توڑ دیا اور بدستور روٹی لگا دی۔اسی بنا پر اسلامی اخلاق میں یہ