اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 385
اصحاب بدر جلد 5 385 داخل ہے کہ " یہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک مسئلہ حل کیا کہ "اگر وعید کے طور پر کوئی عہد کیا جائے تو اس کا توڑ نا حسن اخلاق میں داخل ہے۔" و عید کیا ہے ؟ فرمایا کہ "مثلاً اگر کوئی اپنے خدمت گار کی نسبت قسم کھائے کہ میں اس کو ضرور پچاس جوتے ماروں گا تو اس کی توبہ اور تضرع پر معاف کرنا سنت اسلام ہے تا متحلق باخلاق اللہ ہو جائے۔مگر وعدہ کا تخلف جائز نہیں۔ترک وعدہ پر باز پرس ہو گی مگر ترک و عید پر نہیں۔" 89411 وعدہ ایک ایسا عہد ہے جو تمام منفی اور مثبت پہلو سامنے رکھ کر کیا جاتا ہے اور اس کی پابندی ضروری ہوتی ہے۔اس کو توڑنا، پھر اس کی پوچھ کچھ بھی ہو گی یا پھر کچھ جرمانہ بھی ہو گا۔واقعہ افک اور اس کی تفصیلات صحیح بخاری کی روایت کے مطابق حضرت عائشہ واقعہ افک کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں۔اس کی تفصیل کی کیونکہ اہمیت ہے۔اس لئے میں بھی اب بیان کر رہا ہوں کہ رسول اللہ صلی علی یکم جب کسی سفر میں نکلنے کا ارادہ فرماتے تو آپ اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ ڈالتے۔پھر جس کا قرعہ نکلتا آپ اس کو اپنے ساتھ لے جاتے۔چنانچہ آپ نے ایک حملے کے وقت جو آپ نے کیا ہمارے درمیان قرعہ ڈالا۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میرا قرعہ نکلا۔میں آپ کے ساتھ گئی۔اس وقت حجاب کا حکم اتر چکا تھا، پردے کا حکم آگیا تھا۔میں ہودج میں بٹھائی جاتی ( ہودج جو اونٹ کے اوپر سواری کی جگہ بنائی جاتی ہے۔covered ہوتی ہے ) اور ہو دج سمیت اتاری جاتی۔کہتی ہیں کہ ہم اسی طرح سفر میں رہے۔جب رسول اللہ صلی المینیوم اپنے اس حملے سے فارغ ہوئے اور واپس آئے اور ہم مدینہ کے قریب ہی تھے کہ ایک رات آپ نے کوچ کا حکم دیا۔جب لوگوں نے کوچ کرنے کا اعلان کیا تو میں بھی چل پڑی اور فوج سے آگے نکل گئی۔کہتی ہیں میں پیدل ہی چل پڑی۔کیونکہ رفع حاجت کے لئے جانا تھا تو ایک طرف ہو کے چلی گئیں جب میں اپنی حاجت سے فارغ ہوئی، تو اپنے ہو رج کی طرف آئی اور میں نے اپنے سینے کو ہاتھ لگایا تو کیا دیکھتی ہوں کہ ظفار کے کالے نگینوں کا میرا بار گر گیا ہے۔ایک ہار پہنا ہوا تھا وہ گر گیا ہے۔کہتی ہیں میں اپنا ہار ڈھونڈنے کے لئے واپس لوٹی اور اس کی تلاش نے مجھے روکے رکھا تو کچھ وقت لگ گیا۔اتنے میں وہ لوگ جو میرے اونٹ کو تیار کرتے تھے ، آئے اور انہوں نے میر اہو دج اٹھا لیا اور وہ ہو دج میرے اونٹ پر رکھ دیا جس پر میں سوار ہوا کرتی تھی۔وہ خالی تھا۔لیکن وہ سمجھے کہ میں اسی میں ہوں۔کہتی ہیں کہ عور تیں ان دنوں میں ہلکی پھلکی ہوا کرتی تھیں۔بھاری بھر کم نہ تھیں۔ان کے بدن پر زیادہ گوشت نہ ہو تا تھا۔وہ تھوڑا سا تو کھانا کھایا کرتی تھیں۔لوگوں نے جب ہو دج کو اٹھایا تو اس کے بوجھ کو غیر معمولی نہ یہ احساس نہیں ہوا کہ یہ ہلکا ہے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ انہوں نے اس کو اٹھالیا اور میں کم عمر لڑکی تھی۔انہوں نے اونٹ کو بھی اٹھا کر چلا دیا اور خود بھی چل پڑے۔جب سارا لشکر گزر چکا اور اس کے بعد میں نے اپناہار بھی ڈھونڈ لیا تو میں ڈیرے پر واپس آئی۔وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔پھر میں اپنے اس ڈیرے کی طرف گئی جس میں میں تھی اور میں نے خیال کیا کہ وہ مجھے نہ پائیں گے تو یہیں واپس لوٹ