اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 361 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 361

اصحاب بدر جلد 5 361 بڑھ گئے تھے۔اپنی شرارتوں اور فتنہ پردازیوں میں ترقی کرتے گئے۔چنانچہ کعب بن اشرف کے قتل کا واقعہ اسی کی ایک کڑی ہے۔کعب گومذہبا یہودی تھا لیکن دراصل یہودی النسل نہ تھا بلکہ عرب تھا۔اس کا باپ اشرف بنو نبہان کا ایک ہوشیار اور چلتا پرزہ آدمی تھا۔مدینہ میں آکر بنو نضیر کے ساتھ تعلقات پیدا عظ کیے اور ان کا حلیف بن گیا۔بالآخر اس نے اتنا اقتدار اور رسوخ پیدا کر لیا کہ قبیلہ بنو نضیر کے رئیس ا ابو رافع بن ابی الحقیق نے اپنی لڑکی اسے رشتہ میں دے دی اور اس کے بطن سے کعب پیدا ہوا جس نے بڑے ہو کر اپنے باپ سے بھی بڑھ کر رتبہ حاصل کیا۔حتی کہ بالآخر اسے یہ حیثیت حاصل ہو گئی کہ تمام عرب کے یہودی اسے گویا اپنا سردار سمجھنے لگے۔اخلاقی نقطہ نگاہ سے وہ ایک نہایت گندے اخلاق کا آدمی تھا اور خفیہ چالوں اور ریشہ دوانیوں کے فن میں اسے بڑا کمال حاصل تھا۔نیکی تو اس کے پاس بھی نہیں پھٹکی تھی۔پس کمال تھا اس کا برائیوں میں ، بدیوں میں، لڑانے میں فساد پیدا کرنے میں، فتنہ پیدا کرنے میں۔بہر حال جب آنحضرت صلی للی کم مدینے میں ہجرت کر کے تشریف لائے تو کعب بن اشرف نے دوسرے یہودیوں کے ساتھ مل کر اس معاہدے میں شرکت اختیار کی جو آنحضرت صلی اللہ کم اور یہود کے درمیان باہمی دوستی اور امن و امان اور مشترکہ دفاع کے متعلق تحریر کیا گیا تھا مگر اندر ہی اندر کعب کے دل میں بغض و عداوت کی آگ سلگنے لگ گئی اور اس نے خفیہ چالوں اور خفیہ ساز باز سے اسلام اور بانی اسلام کی مخالفت شروع کر دی۔کعب کی مخالفت زیادہ خطرناک صورت اختیار کر گئی۔اپنی مخالفت اور فتنہ پردازیوں میں بڑھتا ہی چلا گیا اور بالآخر جنگ بدر کے بعد تو اس نے ایسا رویہ اختیار کیا جو سخت مفسدانہ اور فتنہ انگیز تھا اور جس کے نتیجے میں مسلمانوں کے لیے نہایت خطر ناک حالات پیدا ہو گئے۔جب بدر کے موقعے پر مسلمانوں کو ایک غیر معمولی فتح نصیب ہوئی اور رؤسائے قریش اکثر مارے گئے تو اس نے سمجھ لیا کہ اب یہ نیا دین یو نہی مٹتا نظر نہیں آتا۔پہلے تو خیال تھا یہ نیا دین ہے ختم ہو جائے گا۔خود ہی اپنی موت مر جائے گا لیکن جب اسلام کی ترقی دیکھی، بدر کے جنگ کے نتائج دیکھے تو پھر اس کو خیال پیدا ہوا کہ یہ اس طرح نہیں مٹے گا۔چنانچہ بدر کے بعد اس نے اپنی پوری کوشش اسلام کے مٹانے اور تباہ و برباد کرنے میں صرف کر دینے کا تہیہ کر لیا۔جب کعب کو یہ یقین ہو گیا کہ واقعی بدر کی فتح نے اسلام کو وہ استحکام دے دیا ہے جس کا اسے وہم و گمان بھی نہ تھا تو وہ غیض و غضب سے بھر گیا اور فور سفر کی تیاری کر کے اس نے مکے کی راہ لی اور وہاں جاکر اپنی چرب زبانی اور شعر گوئی کے زور سے قریش کے دلوں کی سلگتی ہوئی آگ کو اور شعلہ بار کر دیا، بھڑ کا دیا اور ان کے دل میں مسلمانوں کے خون کی نہ بجھنے والی پیاس پیدا کر دی اور ان کے سینے جذبات انتقام و عداوت سے بھر دیے۔اور جب کعب کی اشتعال انگیزی سے ان کے احساسات میں ایک اتنہائی درجے کی بجلی پیدا ہو گئی تو اس نے ان کو خانہ کعبہ کے صحن میں لے جا کر اور کعبہ کے پر دے ان کے ہاتھوں میں دے دے کر ان سے قسمیں لیں کہ جب تک اسلام اور بانی اسلام کو صفحہ دنیا سے ملیا میٹ نہ