اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 362
اصحاب بدر جلد 5 362 کر دیں گے اس وقت تک چین نہیں لیں گے۔اس کے بعد اس بد بخت نے دوسرے عرب قبائل کا رخ کیا اور قوم بقوم پھر کر مسلمانوں کے خلاف لوگوں کو بھڑ کا یا۔اور پھر مدینے میں واپس آکر مسلمان خواتین پر تشبیب کہی۔یعنی اپنے جوش دلانے والے اشعار میں نہایت گندے اور مخش طریق پر مسلمان خواتین کا ذکر کیا۔حتی کہ خاندانِ نبوت کی عورتوں کو بھی اپنے ان او باشانہ اشعار کا نشانہ بنانے سے دریغ نہیں کیا اور ملک میں ان اشعار کا چر چا کروایا۔بہر حال آخر پھر اس نے یہ کوشش بھی کی کہ آنحضرت ملا لی ایم کے قتل کی سازش کی اور آپ کو کسی دعوت وغیرہ کے بہانے سے اپنے مکان پر بلا کر چند نوجوان یہودیوں سے آپ کو قتل کروانے کا منصوبہ باندھا مگر خدا کے فضل سے وقت پر اطلاع ہو گئی اور اس کی یہ سازش کامیاب نہیں ہوئی۔جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی اور کعب کے خلاف عہد شکنی، بغاوت، تحریک جنگ، فتنہ پردازی، فحش گوئی اور سازش قتل کے الزامات پایہ ثبوت کو پہنچ گئے تو آنحضرت علی سلیم نے جو اس بین الا قوامی معاہدے کی رو سے جو آپ کے مدینے میں تشریف لانے کے بعد اہالیانِ مدینہ سے ہو اتھا مدینے کی جمہوری سلطنت کے صدر اور حاکم اعلیٰ تھے تو آپ نے یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ کعب بن اشرف اپنی کارروائیوں کی وجہ سے واجب القتل ہے۔چونکہ اس وقت کعب کی فتنہ انگیزیوں کی وجہ سے مدینے کی فضا ایسی ہو رہی تھی کہ اگر اس کے خلاف باضابطہ طور پر اعلان کر کے اسے قتل کیا جاتا تو مدینے میں ایک خطرناک خانہ جنگی شروع ہو جانے کا احتمال تھا جس میں نہ معلوم کتنا کشت و خون ہو تا اور آنحضرت صلی لی نظم ہر ممکن اور جائز قربانی کر کے بین الا قوامی کشت و خون کو روکنا چاہتے تھے۔آپ نے یہ ہدایت فرمائی کہ کعب کو بر ملا طور ، کھلے طور پر قتل نہ کیا جاوے بلکہ چند لوگ خاموشی کے ساتھ کوئی مناسب موقع نکال کر اسے قتل کر دیں اور یہ ڈیوٹی آپ نے قبیلہ اوس کے ایک مخلص صحابی محمد بن مسلمہ کے سپرد فرمائی اور انہیں تاکید فرمائی کہ جو طریق بھی اختیار کریں قبیلہ اوس کے رئیس سعد بن معاذ کے مشورے سے کریں۔محمد بن مسلمہ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ! خاموشی کے ساتھ قتل کرنے کے لیے تو کوئی بات کہنی ہو گی یعنی کوئی عذر وغیرہ بنانا پڑے گا جس کی مدد سے کعب کو اس کے گھر سے نکال کر کسی محفوظ جگہ میں قتل کیا جاسکے۔آپ نے ان عظیم الشان اثرات کا لحاظ رکھتے ہوئے جو اس موقعے پر ایک خاموش سزا کے طریق کو چھوڑنے سے پید اہو سکتے تھے فرمایا کہ اچھا۔چنانچہ محمد بن مسلمہ نے سعد بن معاذ کے مشورے سے ابو نائیلہ اور دو تین اور صحابیوں کو اپنے ساتھ لیا اور کعب کے مکان پر پہنچے اور کعب کو اس کے اندرونِ خانہ سے بلا کر کہا کہ ہمارے صاحب یعنی محمد رسول اللہ صلی علی کم ہم سے صدقہ مانگتے ہیں اور ہم تنگ حال ہیں۔کیا تم مہربانی کر کے ہمیں کچھ قرض دے سکتے ہو ؟ یہ بات سن کر کعب خوشی سے کود پڑا اور کہنے لگا کہ واللہ ! ابھی کیا ہے۔وہ دن نہیں جب تم اس شخص سے بیزار ہو کر اسے چھوڑ دو گے۔محمد بن مسلمہ نے جواب دیا۔خیر ہم تو محمد صلی علیکم کی اتباع اختیار کر چکے ہیں جس کام کے لیے تمہارے پاس آئے ہیں تم یہ بتاؤ کہ قرض دو گے یا دور