اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 335
اصحاب بدر جلد 5 335 قبول اسلام اور سارا خاندان مدینہ ہجرت کر گیا قبول اسلام کے وقت ان کی عمر انیس برس کی تھی، گویا عین جوانی میں ہی انہوں نے اسلام قبول کر لیا اور ہجرت مدینہ کے وقت آپ کا سارا خاندان مکہ میں اپنے مکانوں کو بالکل خالی چھوڑ کر مدینہ چلا گیا۔مدینہ میں حضرت عبد اللہ بن سلمہ عجلانی نے اس خاندان کو اپنا مہمان بنایا۔آنحضور صلی اللہ ہم جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے تو آپ نے حضرت قدامہ اور ان کے بھائیوں کو مستقل رہائش کے لئے قطعات زمین مرحمت فرمائے۔796 دونوں ہجر تیں کرنے والے اور تمام غزوات میں شامل حضرت قدامہ ابتدائی ایمان لانے والوں میں سے تھے۔دونوں ہجر توں یعنی ہجرت حبشہ اور ہجرت مدینہ میں شامل ہوئے۔ان کو غزوہ بدر اور احد سمیت تمام غزوات میں آنحضرت صلی علیم کے ہمراہ شامل ہونے کی توفیق ملی۔797 عورت کی آزادی رائے جب حضرت عثمان بن مظعون کی وفات ہوئی تو آپ نے اپنے پیچھے ایک بیٹی چھوڑی جس کے متعلق آپ نے اپنے بھائی حضرت قدامہ کو تاکیدی نصیحت فرمائی۔اس کے بارے میں حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمان بن مظعون اور حضرت قدامہ دونوں میرے ماموں تھے۔پس میں حضرت قدامہ کے پاس گیا اور ان سے درخواست کی کہ حضرت عثمان بن مظعون کی بیٹی کا نکاح مجھ سے کر دیں تو آپ نے مجھ سے بات پکی کر دی، رشتہ ہو گیا۔مغیرہ بن شعبہ اس لڑکی کی والدہ کے پاس گئے اور انہیں مالی لحاظ سے رغبت دلائی اور لڑکی کی رائے بھی اپنی والدہ کے حق میں تھی، ایک اور رشتہ آیا اور لڑکی کی والدہ اور لڑکی کی رغبت یار شتہ کرنے کارجحان دوسری طرف تھا۔یہ معاملہ آنحضرت صلی علیہ کم کی خدمت میں پہنچا۔رسول اللہ صلی علیم نے حضرت قدامہ کو بلا بھیجا اور اس رشتہ کے بارے میں ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یارسول اللہ ! یہ میرے بھائی کی بیٹی ہے۔میں اس کے لئے رشتہ چننے میں کوئی کو تاہی نہیں کروں گا۔میرے بھائی کی بیٹی ہے اور وہ فوت ہو گیا ہے ، میں اس کے رشتے کے لئے جو بہترین ہو گا وہی کروں گا چنانچہ میں نے جو پہلے ہاں کر دی ہے اس کو بہتر سمجھ کے کی ہے۔اس پر آپ صلی علی کرم نے فرمایا کہ یہ یتیم بچی ہے اس کی شادی اس کی مرضی سے ہو گی۔اس کا باپ نہیں ہے ، ٹھیک ہے تم نے بہترین کیا ہو گا لیکن اس بچی کی مرضی بھی پوچھو۔دونوں رشتوں میں سے جہاں بچی کہے گی وہاں شادی ہو گی۔پس آپ صلی ایم نے اس کے بعد یہ فیصلہ کیا۔یہ راوی جنہوں نے پہلے خود پیغام بھیجا تھا، رشتہ دار تھے ، بھانجے تھے بیان کرتے ہیں کہ میرے بجائے اس کا نکاح مغیرہ سے کر دیا۔798 دوسرا رشتہ جو پسند تھا اس کی ماں کو اور لڑکی کو اس سے رشتہ ہو گیا۔تو یہ عورت کی آزادی رائے