اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 314 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 314

314 248 اصحاب بدر جلد 5 نام و نسب و کنیت حضرت عمرو بن عوف / عمير بن عوف ان کا نام حضرت عمر و بن عوف ہے۔حضرت عمرو کا نام عمیر بھی ملتا ہے اور والد کا نام عوف تھا۔حضرت 741 عمرو کی کنیت ابو عمر و تھی۔ان کی ولادت مکے میں ہوئی اور ابن سعد کے مطابق یہ یمن سے تھے۔740 یعنی یمن کے رہنے والے تھے۔مؤرخین نے اور سیرت نگاروں نے اور محدثین نے ان صحابی کے نام کے بارے میں مختلف رائے دی ہیں اور ان کے بارے میں بہت زیادہ اشتباہ پایا جاتا ہے۔چنانچہ امام بخاری، ابن اسحاق، ابن سعد، علامہ ابن عبدالبر، علامہ ابن اثیر جزری وغیرہ نے ان کا نام عمر و بیان کیا ہے جبکہ ابن ہشام، موسیٰ بن عقبہ، ابو معشر محمد بن عمر واقدی و غیرہ نے ان کا نام عمیر بیان کیا ہے۔علامہ بدرالدین عینی اور علامہ ابن حجر عسقلانی یہ دونوں صحیح بخاری کے شارح بھی ہیں۔ان کی تشریح لکھی ہے ان کے مطابق عمرو بن عوف اور عمیر بن عوف دونوں ہی ایک شخص کے نام ہیں۔11 امام بخاری کے مطابق حضرت عمرو بن عوف انصاری قریش کے قبیلہ بنو عامر بن لوئی کے حلیف تھے جبکہ ابنِ ہشام اور ابنِ سعد نے انہیں قریش کے خاندان بنو عامر بن لوئی سے قرار دیا ہے۔علامہ بدرالدین عینی جو بخاری کے شارح ہیں انہوں نے اس کی تطبیق کی ہے۔اس کو (دونوں مختلف بیانوں کو) اس طرح اس کے ساتھ آپس میں ملایا ہے کہ کہتے ہیں کہ حقیقت میں حضرت عمرو بن عوف انصار کے قبیلہ اوس یا خزرج میں سے تھے اور انہوں نے مکے جا کر قیام کیا تھا اور وہاں بعض لوگوں کے حلیف ہوئے تھے اور اس اعتبار سے وہ انصاری بھی ہوئے اور مہاجر بھی ہوئے۔42 حضرت عمرو بن عوف قدیمی اسلام قبول کرنے والوں میں سے تھے۔143 حضرت عمرو بن عوف نے مکے سے ہجرت مدینہ کے وقت قبائیں حضرت کلثوم بن الہدم کے ہاں قیام حضرت عمرو بن عوف غزوہ بدر، غزوہ احد، غزوہ خندق اور اس کے علاوہ دیگر تمام غزوات میں آنحضرت صلی علیہ نام کے ساتھ شریک ہوئے۔744 حضرت عمر و بن عوف کی وفات حضرت عمر کے دورِ خلافت میں ہوئی اور ان کی نماز جنازہ حضرت عمر نے پڑھائی۔745