اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 315
315 249 اصحاب بدر جلد 5 حضرت عمرو بن معاذ بن نعمان اپنے بھائی کے ساتھ جنگ بدر میں شامل نام و نسب و کنیت حضرت عمرو بن معاذ بن نُعمان اوسی ایک صحابی تھے۔حضرت عمرو کے والد کا نام معاذ بن نُعمان اور ان کی والدہ کا نام گیشه بنتِ رَافِع تھا۔حضرت عمر و بن مُعاذ انصاری اَشْهَلی قبیلہ اوس کے سردار حضرت سعد بن معاذ کے بھائی ہیں۔انصار کے قبیلہ بنو عبد الاشھل سے تعلق رکھنے والوں کو آشکیلی بھی کہا جاتا تھا۔اس قبیلے سے ایک کثیر جماعت نے اسلام قبول کیا تھا۔رض حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی علیم نے انصار کے حضرت عمر و بن معاذ اور مکے سے ہجرت کر کے مدینہ پہنچنے والے حضرت عمیر بن ابو و قاص کے در میان عقد مواخات قائم فرمایا۔عمیر بن ابو وقاص، حضرت سعد بن ابو و قاص کے بھائی تھے۔حضرت عمرو بن معاذ اپنے بھائی حضرت سعد کے ہمراہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے۔جنگ احد میں شہادت حضرت عمرو بن معاذ غزوہ احد میں شہید ہوئے۔انہیں ضرار بن خطاب نے شہید کیا۔ضرار بن خطاب نے جب حضرت عمرو بن معاذ کو نیزہ گھونپا جو ان کے جسم کے آر پار ہو گیا تو ان سے بطور استہزاء کہا کہ دیکھنا تم سے وہ شخص نہ چھوٹنے پائے جو محور عین سے تمہاری شادی کرائے۔اس وقت ضرار نے بڑا طنز یہ لفظ استعمال کیا۔ضرار مسلمان نہیں ہوئے تھے اور فتح مکہ کے دن انہوں نے اسلام قبول کیا تھا۔حضرت عمرو بن معاذ کی عمر شہادت کے وقت 32 سال تھی۔ضرار بن خطاب بن مرد اس کے والد خطاب اپنے زمانے میں بنو فقر کے رئیس تھے۔اپنی قوم کے لیے ایک مسافر خانہ بنایا ہوا تھا۔فیرار جنگ فجار کے دن بنو محارب بن فہر کے سردار تھے۔قریش کے شہ سواروں ، بہادروں او میں سے تھے۔میر چار نے خندق پار ہوں اور شیر میں کلام شاعروں میں سے تھے۔یہ ان چار آدمیوں میں سے تھے جنہوں نے خندق پار کی تھی۔ابن عساکر دمشقی نے تاریخ دمشق میں ان کا نام بطور صحابی کے ان کا ذکر کیا ہے۔ضرار حضرت ابو عبیدہ کے ہمراہ فتوحاتِ شام میں شریک تھے اور فتح مکہ کے دن انہوں نے اسلام قبول کیا تھا۔ان کا اسلام لا نا مشہور ہے اور ان کی نظم و نثر ان کے اسلام پر دلالت کرتی ہے۔16 746