اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 194
اصحاب بدر جلد 5 194 عبد اللہ بن زید انصاری تھے جنہوں نے رویا میں اذان دیکھی تھی۔علامہ زرقانی لکھتے ہیں کہ اگر یہ بات درست ہے تو ممکن ہے کہ دونوں نے نبی صلی الی یکم سے ایسی بات کا ذکر کیا ہو اور اس پر یہ آیت نازل ہوئی ہو اور یہ بھی ذکر ملتا ہے کہ ایسی بات نبی کریم صلی ا لنی کیم کے کئی ساتھیوں نے کی تھی۔430 آنحضرت صلی الم سے دوری میں زیادہ صبر نہیں کر سکتے تھے پہلے بیان کردہ واقعات کے علاوہ تفاسیر میں حضرت ثوبان کا واقعہ اور الفاظ میں بھی بیان ہوا ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ حضرت ثوبان کو رسول اللہ صلی علیم سے شدید محبت تھی اور آپ سے دوری میں زیادہ صبر نہیں کر سکتے تھے۔ایک روز جب وہ آنحضرت صلی علیکم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ان کا رنگ بدلا ہوا تھا اور ان کے چہرے سے حزن کے آثار ظاہر ہو رہے تھے۔اس پر رسول اللہ صلی علیم نے پوچھا کہ کس چیز کے باعث تمہارا رنگ بدلا ہوا ہے ؟ حضرت ثوبان نے عرض کی کہ یارسول اللہ !نہ تو مجھے کوئی مرض ہے اور نہ ہی کوئی بیماری ہے ماسوائے اس کے کہ میں آپ کو دیکھ نہ سکا۔یعنی کچھ عرصے سے دیکھا نہیں تھا۔اس لیے مجھ پر شدید وحشت طاری ہو گئی جب تک کہ آپ سے ملاقات نہ ہو گئی۔اسی طرح جب مجھے آخرت کی یاد آئی تو مجھ پر خوف طاری ہوا کہ میں آپ کو نہ دیکھ سکوں گا کیونکہ آپ کا تو انبیاء کے ساتھ رفع کیا جائے گا اور اگر میں جنت میں چلا بھی گیا تو میرا مقام وہاں آپ کے مقام سے بہت اونی ہو گا اور اگر میں جنت میں نہ داخل ہو سکا تو پھر میں کبھی بھی آپ کو نہ دیکھ سکوں گا۔431 نبی صلی ایم کی وفات پر کہنا کہ خدایا میری آنکھیں لے جا علامہ زرقانی لکھتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن زید اپنے باغ میں کام کر رہے تھے۔عبد اللہ بن زید کا پھر دوبارہ ذکر شروع ہوتا ہے۔پھر یہ ہے کہ آپ کا بیٹا آپ کے پاس آیا اور آپ کو خبر دی کہ نبی صلی علیہ کم وفات پاگئے ہیں۔اس پر آپ نے کہا کہ اللهُمَّ أَذْهِبْ بَصَرِي حَتَّى لَا أَرَى بَعْدَ حَبِيْنِي مُحَمَّدًا أَحَدًا - که اے اللہ ! تو میری نظر کو لے جایہاں تک کہ میں اپنے محبوب محمد صلی علی ایم کے بعد کسی کو نہ دیکھ پاؤں۔اس کے بعد ، شرح زرقانی میں لکھا ہے کہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد آپ کی نظر جاتی رہی اور آپ نابینا ہو گئے۔432 ان کی وفات کے بارے میں لکھا ہے کہ عبد اللہ بن زید کی وفات کے متعلق اختلاف پایا جاتا ہے۔بعض نے غزوہ احد کے وفات کا ذکر کیا ہے لیکن اکثر یہ بیان ہوا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن زید کی وفات کے متعلق اختلاف پایا جاتا ہے۔بعض نے غزوہ احد کے بعد وفات کا ذکر کیا ہے لیکن اکثر یہ بیان ہوا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن زید تمام غزوات میں رسول اللہ صلی علیکم کے ساتھ شریک ہوئے تھے اور آپ کی وفات حضرت عثمان کی خلافت کے آخری دور میں 32 ہجری میں مدینہ میں ہوئی تھی اور وہ جو نظر والا واقعہ ہے اس سے بھی اگر اس کو صحیح مانا جائے تو یہی لگتا ہے کہ حضرت عثمان کے دور میں ہوئی تھی جبکہ