اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 162 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 162

اصحاب بدر جلد 5 162 پڑھائیں۔جب رسول اللہ صلی للی کم کھڑے ہوئے تو میں آپ کی طرف لپکا اور میں نے کہا کہ یارسول اللہ ! کیا آپ ابن ابی کا نماز جنازہ پڑھتے ہیں اور اس نے تو فلاں دن یہ بات کہی تھی اور فلاں دن یہ بات کہی تھی۔میں نے باتیں گنوانی شروع کر دیں۔میں اس کے خلاف اس کی باتیں گننے لگا۔رسول اللہ صلی علی کل مسکر ائے اور فرمایا عمر ہٹ جاؤ۔جب میں نے آپ سے بہت اصرار کیا تو آپ نے فرمایا مجھے تو اختیار دیا گیا ہے سو میں نے اختیار کر لیا ہے اور اگر میں یہ جانوں اور مجھے یہ پتا ہو کہ میں ستر بار سے زیادہ اس کے لیے دعائے مغفرت کروں اور وہ بخشا جائے گا تو میں ضرور اس سے بھی زیادہ کروں۔حضرت عمر کہتے ہیں چنانچہ رسول اللہ صلی علیہم نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔پھر آپ لوٹ آئے اور تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ سورہ براء یعنی سورہ توبہ کی یہ دو آیتیں نازل ہوئیں کہ وَلَا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَكَ اوَلَا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَمَا تُوا وَ هُمْ فَسِقُونَ (التوبة: 84) یعنی تو ان میں سے کسی کی بھی جو مر جائے کبھی نماز جنازہ نہ پڑھ اور تو اس کی قبر پر کھڑا نہ ہو کیونکہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا انکار کیا اور وہ ایسی حالت میں مر گئے کہ وہ بد عہد تھے۔حضرت عمرؓ کہتے تھے کہ اس کے بعد میں نے اپنی جسارت پر تعجب کیا کہ میں نے آنحضرت کے سامنے بولنے کی یہ جرات کس طرح کر لی جو میں نے اس دن رسول اللہ صلی ال نیلم کے سامنے دکھائی تھی اور اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔344 206 حضرت عبد اللہ بن عبد مناف پھر حضرت عبد اللہ بن عبد مناف ہیں ان کا تعلق قبیلہ بنو نعمان سے تھا۔5 345 ابو یحی ان کی کنیت تھی ان کی والدہ محمیمہ بنت عبید تھیں۔ان کی ایک بیٹی تھیں ان کا نام بھی مُحمیمہ تھا جن کی والدہ ربیع بنت طفیل تھیں۔آپ غزوہ بدر اور احد میں شریک ہوئے تھے۔346