اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 145
اصحاب بدر جلد 5 145 صلى الله ولم نے حضرت ابو سلمہ یعنی حضرت عبد اللہ بن عبد الاسد کو بلا کر بنوائد کی سرکوبی کے لیے ڈیڑھ سو مہاجرین اور انصار کی سر کردگی میں بھیجا اور ان کو لو او یعنی ایک پر چم تیار کر کے دیا اور جس شخص نے بنو اسد کے متعلق یہ اطلاع دی تھی اس کو بطور رہبر ساتھ بھیجا۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو سلمہ کو حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ تم آگے بڑھتے رہو یہاں تک کہ بنو اسد کے علاقے میں جا کر پڑاؤ ڈالو اور اس سے پہلے کہ وہ اپنے لشکر کے ساتھ تمہاراسامناکریں تم ان پر حملہ کر دو۔چنانچہ اس حکم پر حضرت ابو سلمہ نہایت تیزی کے ساتھ رات دن سفر کرتے ہوئے عام راستوں سے ہٹ کر چلے تاکہ بنو اسد کو ان کی پیش قدمی کی خبر ہونے سے پہلے وہ ان کے سر پر اچانک پہنچ جائیں۔آخر چلتے چلتے وہ بنو اسد کے ایک چشمے پر پہنچ گئے اور انہوں نے مویشیوں کے باڑے پر حملہ کر دیا اور ان کے تین چرواہوں کو پکڑ لیا۔باقی تمام لوگ جان بچا کر بھاگنے میں کامیاب ہو گئے۔حضرت ابو سلمہ نے اپنے دیتے کو تین حصوں میں تقسیم کیا اور ایک حصہ اپنے پاس رکھ کر باقی دو کو ادھر اُدھر روانہ کر دیا۔یہ لوگ کچھ اور اونٹ اور بکریاں پکڑ لائے مگر کسی آدمی کو نہ پکڑ سکے۔اس کے بعد حضرت ابوسلمہ واپس مدینہ لوٹ آئے۔یہ سیرت الحلبیہ کا حوالہ ہے۔عمرو بن ابو سلمہ کہتے ہیں کہ حضرت ابو سمری غزوہ بدر اور احد میں شریک ہوئے اور ابو اسامہ بخشیمی نے غزوہ احد میں انہیں زخمی کیا۔اس نے حضرت ابو سلمہ کے بازو پر برچھی سے وار کیا۔حضرت ابو ایک ماہ تک اس زخم کا علاج کرتے رہے جو بظاہر اچھا بھی ہو گیا۔زخم مندمل ہو گیا جس کی خرابی کو کوئی نہ پہچانتا تھا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے پینتیسویں مہینے محرم میں انہیں ایک سریہ میں طن میں بنو اسد کی طرف بھیجا۔قطن کے متعلق کہتے ہیں یہ عتیزہ (نجد) اور خیبر کے وسط میں ایک پہاڑی ہے جس کے شمال میں بنو اسد بن خزیمہ آباد تھے۔بہر حال وہ دس سے زائد راتیں مدینہ سے باہر رہنے کے بعد واپس لوٹے تو ان کا زخم خراب ہو گیا اور وہ بیمار ہو گئے اور تین جمادی الآخر چار ہجری کو وفات پا گئے۔323 ابو قلابہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو سلمہ بن عبد الاسد کے پاس عیادت کے لیے تشریف لائے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کے ساتھ ہی ان کی 322 بو سالمين راوی کہتے ہیں کہ اس پر وہاں عورتوں نے کچھ کہا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : رُک جاؤ۔اپنی جانوں کے لیے خیر کے سوا اور کوئی دعانہ کیا کرو کیونکہ فرشتے میت کے پاس یا فرمایا میت کے اہل کے پاس حاضر ہوتے ہیں۔وہ ان کی دعا پر آمین کہتے ہیں۔لہذا اپنے لیے سوائے خیر کے اور کوئی دعا نہ کرو۔یہ رونا پیٹنا جو ہے ناں جس کو ہمارے ہاں سیاپے کرنا بھی کہتے ہیں وہ نہیں ہونا چاہیے۔پھر فرمایا: اے اللہ ! ان کے لیے ان کی قبر کو کشادہ کر دے اور ان کے لیے اس میں روشنی کر دے۔ان کے نور کو بڑھا دے اور ان کے گناہ کو معاف کر دے۔اے اللہ ! ان کا درجہ ہدایت یافتہ لوگوں میں بلند کر۔اور ان