اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 144
اصحاب بدر جلد 5 144 لئے حضرت ابو بکر کو ان کے ساتھ شادی کرنے کی خواہش پیدا ہوئی۔مگر ام سلمہ نے انکار کیا۔آخر آنحضرت صلی للی کم کو خود اپنے لئے ان کا خیال آیا جس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اتم سلمہ کی ذاتی خوبیوں کے علاوہ جن کی وجہ سے وہ ایک شارع نبی کی بیوی بننے کی اہل تھیں وہ ایک بہت بڑے پائے کے قدیم صحابی کی بیوہ تھیں اور پھر صاحب اولاد بھی تھیں جس کی وجہ سے ان کا کوئی خاص انتظام ہو ناضروری تھا۔علاوہ ازیں چونکہ ابوسلمہ بن عبد الاسد آنحضرت صلی الی ایم کے رضاعی بھائی بھی تھے اس لئے آنحضرت صلی الله علم کو ان کے پسماندگان کا خاص خیال تھا۔بہر حال آنحضرت صلی علیم نے ام سلمہ کو اپنی طرف سے شادی کا پیغام بھیجا۔پہلے تو اتم سلمہ نے اپنی بعض معذوریوں کی وجہ سے کچھ تامل کیا اور یہ عذر بھی پیش کیا کہ میری عمر اب بہت زیادہ ہو گئی ہے اور میں اولاد کے قابل نہیں رہی۔لیکن چونکہ آنحضرت صلی علی نام کی غرض اور تھی اس لئے بالآخر وہ رضامند ہو گئیں اور ان کی طرف سے ان کے لڑکے نے ماں کا ولی ہو کر آنحضرت صلی اللی علم کے ساتھ ان کی شادی کر دی۔جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے ام سلمہ ایک خاص پائے کی خاتون تھیں اور نہایت فہیم اور ذکی ہونے کے علاوہ اخلاص و ایمان میں بھی ایک اعلیٰ مرتبہ رکھتی تھیں اور ان لوگوں میں سے تھیں جنہوں نے آنحضرت صلی علیم کے حکم سے ابتداء حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی۔مدینہ کی ہجرت میں بھی وہ سب مستورات سے اول نمبر پر تھیں۔حضرت ام سلمہ پڑھنا بھی جانتی تھیں اور مسلمان مستورات کی تعلیم و تربیت میں انہوں نے خاص حصہ لیا۔چنانچہ کتب حدیث میں بہت سی روایات اور احادیث ان سے مروی ہیں اور اس جہت سے ان کا درجہ ازواج النبی میں دوسرے نمبر پر اور گل صحابہ (مردوزن) میں بار ہویں نمبر پر ہے۔20 ایک روایت میں ہے کہ محمد بن عمارہ کہتے ہیں کہ مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آنے والوں میں سب سے پہلے ہمارے پاس حضرت ابو سلمہ بن عبد الاسد تشریف لائے۔وہ دس محرم کو مدینہ آئے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارہ ربیع الاول کو مدینہ میں تشریف لائے۔وہ مہاجرین جو سب سے پہلے آئے 320 اور بنو عمرو بن عوف میں ٹھہرے اور جو مہاجرین آخر پر آئے ان کے در میان دو مہینوں کا فرق ہے۔حضرت ام سی مسلمہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو سلمہ نے جب مدینہ ہجرت کی تو قبا میں حضرت بکشیر بن عبد المنذر کے ہاں ٹھہرے۔ہجرت کی تو وہ قبا میں حضرت بشر بن عبد المنذر کے ہاں ٹھہرے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو سلمہ بن عبد الاسد اور حضرت سعد بن خیثمہ کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔321 جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کو قبیلہ بنو طے کے ایک شخص نے جو کہ اپنی بھتیجی سے ملنے کے لیے مدینہ آیا تھا یہ خبر دی کہ خُویلد کے بیٹے طلیحہ اور سلمہ اپنی قوم اور اپنے حلیفوں میں گھوم رہے ہیں اور اپنی قوم اور ان لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بھڑ کا کر جنگ پر آمادہ کر رہے ہیں تو