اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 133 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 133

اصحاب بدر جلد 5 133 پر معلوم ہوا کہ یہ وہ جاسوس تھے جو آنحضرت صلی علیہ ہم نے قریش کے پیچھے روانہ کیے تھے مگر جنہیں قریش نے موقع پا کر قتل کر دیا تھا۔آنحضرت صلی علی ایم نے ان شہداء کو ایک قبر کھدوا کر اس میں اکٹھا دفن کروا دیا اور اب چونکہ شام ہو چکی تھی آپ نے وہیں ڈیر اڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ میدان میں مختلف مقامات پر آگ روشن کر دی جائے۔وسیع جگہ پر آب آگئیں جلا دی جائیں۔چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے حمراء الاسد کے میدان میں پانچ سو آگئیں شعلہ زن ہو گئیں جو ہر دور سے دیکھنے والے کے دل کو مرعوب کرتی تھیں۔بڑا رعب پڑنے لگ گیا۔مختلف لوگ سمجھیں کہ یہ آبادی ہے اور بڑے بڑے مختلف کیمپ بنے ہوئے ہیں۔غالباً اسی موقع پر قبیلہ خزاعہ کا ایک مشرک رئیس مَعْبَد نامی آنحضرت صلی علیم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے احد کے مقتولین کے متعلق اظہارِ ہمدردی کی اور پھر اپنے راستے پر روانہ ہو گیا۔دوسرے دن جب وہ مقام روحاء ( یہ بھی ایک مقام ہے ، جگہ ہے جو مدینہ سے چالیس میل کے فاصلے پر ہے۔وہاں ) پہنچا تو کیا دیکھتا ہے کہ قریش کا لشکر وہاں ڈیرا ڈالے پڑا ہے (جو بحث کر کے واپس مدینہ میں آرہے تھے ) اور مدینہ کی طرف واپس چلنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔معبد فوراً ابو سفیان کے پاس گیا اور اسے جا کر کہنے لگا کہ تم کیا کرنے لگے ہو۔اللہ کی قسم میں نے تو ابھی محمد علی علیم کے لشکر کو جراء الاسد میں چھوڑا ہے۔میں انہیں وہاں چھوڑ کر آیا ہوں اور ایسا بارعب لشکر ہے جو میں نے کبھی نہیں دیکھا۔اور احد کی ہزیمت کی ندامت، (جو جنگ ہاری ہے اس کی ندامت) میں ان کو اتنا جوش ہے کہ تمہیں دیکھتے ہی وہ بھسم کر دیں گے ، کھا جائیں گے، ختم کر دیں گے۔ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں پر معبد کی ان باتوں سے ایسا رعب پڑا کہ وہ مدینے کی طرف لوٹنے کا ارادہ ترک کر کے فوراً ستے کی طرف روانہ ہو گئے۔آنحضرت صلی علیکم کو لشکرِ قریش کے اس طرح بھاگ نکلنے کی اطلاع موصول ہوئی تو آپ نے خدا کا شکر ادا کیا اور فرمایا کہ یہ خدا کا رعب ہے جو اس نے کفار کے دلوں پر مسلط کر دیا ہے۔اس کے بعد آپ نے حمراء الاسد میں دو تین دن اور قیام فرمایا اور پھر پانچ دن کی غیر حاضری کے بعد مدینے میں واپس تشریف لے آئے۔299 202 نام و نسب حضرت عبد اللہ بن سہیل حضرت عبد اللہ کے والد کا نام سُهَيْل بن عمرو اور والدہ کا نام فاختہ بنتِ عامر تھا۔ان کے بھائی کا نام ابو جنیل تھا۔حضرت عبد اللہ اپنے بھائی ابو جندل سے عمر میں بڑے تھے۔حضرت عبد اللہ کی کنیت ابو سھیل تھی۔حضرت عبد اللہ بن سھیل کا تعلق قبیلہ قریش کے خاندان بنو عامر بن لوی سے تھا۔