اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 86
اصحاب بدر جلد 5 86 مسلمانوں سے جنگ کی تو حضرت عبادہ بھی عبد اللہ بن ابی کی طرح ان کے حلیف تھے لیکن اس جنگ کی حالت کی وجہ سے یہ اس قبیلے سے الگ ہو گئے اور اللہ اور اس کے رسول صلی للی کم کی خاطر ان کے حلیف ہونے سے بری ہو گئے۔تاریخ میں لکھا ہے کہ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصْرَى أَوْلِيَاء بَعْضُهُم اَولِيَاءَ بَعْضٍ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ (امام 52:0) کہ اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! یہود اور نصاریٰ کو دوست نہ پکڑو۔وہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اور تم میں سے جو ان سے دوستی کرے گاوہ انہی کا ہو رہے گا۔یقیناً اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔209 کفار کو دوست نہ رکھنے کا اصل مفہوم یہاں یہ واضح کر دوں کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ کبھی بھی کسی عیسائی یا یہودی کو فائدہ پہنچانے والی بات نہیں کرنی۔اُن سے تعلقات نہیں رکھنے بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ یہودی یا عیسائی جو تمہارے ساتھ جنگ کی حالت میں ہیں ان سے دوستیاں نہ کرو ورنہ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں اُن سے نیکی اور عدل سے نہیں روکتا جو تم سے جنگ نہیں کرتے یا جنہوں نے تمہیں گھروں سے نہیں نکالا چاہے وہ کافر ہیں یا یہود و نصاریٰ میں سے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَا يَنْصُكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (المستند :) اللہ تمہیں ان سے منع نہیں کرتا جنہوں نے تم سے دین کے معاملے میں قتال نہیں کیا اور نہ تمہیں بے وطن کیا کہ تم ان سے نیکی کرو اور ان سے انصاف کے ساتھ پیش آؤ۔یقینا اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے رتا ہے۔پس یہاں جو واضح کیا گیا ہے، پہلی آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ کمزوری اور خوف اور بزدلی کی وجہ سے غیر مسلموں سے تعلقات نہیں رکھنے۔مقصد یہ ہے کہ تمہارا اللہ تعالیٰ پر تو گل ہونا چاہیے اور اپنی ایمانی حالت کو بہتر کرو گے تو خدا تعالیٰ بھی تمہارے ساتھ ہو گا لیکن ہم آج کل دیکھتے ہیں کہ بد قسمتی سے مسلمان حکومتیں مدد کے لیے انہی غیر لوگوں کی گودوں میں گر رہی ہیں اور ان سے خوف زدہ بھی ہیں اور غیروں سے مدد لینے کی وجہ سے پھر نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ ہر ایک مسلمان ملک دوسرے مسلمان کے خلاف ہے۔یہی لوگ پھر اسلام کی جڑیں کاٹنے والے بھی ہیں۔بہر حال ہم یہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان مسلمان حکومتوں کو بھی عقل دے۔بنو قینقاع کی بغاوت اور ان کی جلا وطنی بہر حال اس واقعہ کا ذکر ہو رہا ہے کہ بنو قینقاع نے جب جنگ کی تو اس کے بعد ان کا گھیراؤ کیا گیا۔جنگ ہوئی اور انہوں نے شکست کھائی۔سیرت خاتم النبیین میں اس واقعہ کا مختلف تاریخوں سے لے کر جو ذکر کیا گیا ہے وہ اس طرح ہے کہ اس جنگ کے بعد جب بنو قینقاع کی شکست ہوئی تو ان کو جلا وطنی کا