اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 59 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 59

اصحاب بدر جلد 5 59 59 اونٹنیاں اس کے سپرد کر دیں اور اس سے یہی وعدہ ٹھہرایا کہ وہ تین دن کے بعد صبح کے وقت ان کی اونٹنیاں لے کر غار ثور پر پہنچے گا۔عامر بن فہیرہ اور رہبر ان دونوں کے ساتھ چلے۔وہ رہبر ان تینوں کو سمندر کے کنارے کے راستے سے لے کر چلا گیا۔یہ بخاری کی روایت ہے۔17 ہجرت مدینہ اور سراقہ کا تعاقب 167 سراقہ بن مالک بن جعشم کہتے تھے کہ ہمارے پاس کفار قریش کے ایچی آئے جو رسول اللہ صلی الیکم اور حضرت ابو بکر ان دونوں میں سے ہر ایک کی دیت مقرر کرنے لگے اس شخص کے لئے جو ان کو قتل کرے یا قید کرے۔اسی اثناء میں کہ میں اپنی قوم بنو منبج کی ایک مجلس میں بیٹھا ہو ا تھا کہ ان میں سے ایک شخص سامنے سے آیا۔یہی باتیں ہو رہی تھیں کہ کس طرح پکڑا جائے یا قتل کیا جائے۔آنحضرت صلی الیکم پر ، حضور پر کس طرح حملہ کیا جائے۔کہتے ہیں یہ باتیں ہماری مجلس میں ہو رہی تھیں کہ ایک شخص آیا اور آکر ہمارے پاس کھڑ ا ہو گیا اور ہم بیٹھے تھے۔کہنے لگا: سراقہ! میں نے ابھی سمندر کے کنارے کی طرف کچھ سائے دیکھے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ وہی محمد علی لیلی یم اور اس کے ساتھی ہیں۔سراقہ کہتے تھے کہ میں نے شناخت کر لیا کہ وہی ہیں مگر میں نے اسے کہا کہ وہ ہر گز نہیں ہیں بلکہ تم نے فلاں فلاں کو دیکھا ہے جو ہمارے سامنے گئے تھے اور اس کی بات ٹال دی۔پھر میں اس مجلس میں کچھ دیر ٹھہرا رہا۔سراقہ کو اس وقت لالچ بھی تھا کہ کہیں یہ نہ پیچھے چلا جائے اور پھر یہ انعام کا حق دار ٹھہر جائے۔تو کہتے ہیں بہر حال میں نے ٹال دیا اور کچھ دیر کے بعد اٹھا اور گھر گیا اور اپنی لونڈی سے کہا کہ میری گھوڑی نکالو۔الله سة وہ ٹیلے کے پرے ہی رہے۔یعنی پیچھے جو ایک چھوٹا سائیلا تھا اس کی طرف میری گھوڑی لے جاؤ، اور وہیں رکھو۔وہاں اس کو میرے لئے تھامے رکھو۔چنانچہ میں نے اپنا نیزہ لیا اور اس کو لے کر گھر کے پیچھے کی طرف سے نکلا۔میں نے نیزے کے بھال کو زمین پر رکھا اور اس کے اوپر کے حصے کو نیچے جھکایا اور اس طرح اپنی گھوڑی کے پاس پہنچا اور اس پر سوار ہو گیا۔یعنی گھوڑی پر سوار ہونے کے لئے اپنا واقعہ بیان کر رہے ہیں کہ نیزہ کا سہارا لیا اور گھوڑی پر سوار ہو گیا۔میں نے اس کو چمکا یا یعنی تھوڑی سی اس کو تھپکی دی اور اس کو دوڑایا اور وہ سرپٹ دوڑتی ہوئی مجھے لے گئی یہاں تک کہ جب ان کے قریب پہنچا یعنی آنحضرت صلی الیکم کے قریب پہنچا تو میری گھوڑی نے ایسی ٹھو کر کھائی کہ میں اس سے گر پڑا۔میں اٹھ کھڑاہوا اور اپنے ترکش کی طرف ہاتھ جھکا کر میں نے اس سے تیر نکالا اور اس سے فال لی کہ آیا ان کو نقصان پہنچا سکوں گا یا نہیں یعنی جو میرا قتل کا یا پکڑنے کا ارادہ ہے وہ میں کر سکوں گا یا نہیں۔کہتا ہے کہ پس وہی نکلا جسے میں ناپسند کرتا تھا۔یعنی فال میرے خلاف نکلی۔یہی کہ میں نہیں پکڑ سکتا۔کہتا ہے میں پھر اپنی گھوڑی پر سوار ہو گیا اور پانسے کے خلاف عمل کیا یا جو بھی فال نکلی تھی اس کے