اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 53 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 53

اصحاب بدر جلد 5 53 یہ جو روایت ہے کہ نبی نہیں آئے گا۔اس سے یہ بھی مراد نہیں ہے کہ آنحضرت علی نے انتی بی کی جو پیشگوئی کی تھی وہ غلط ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ ہی آخری شرعی نبی ہیں اور کوئی نئی شریعت نہیں آئے گی اور جو بھی آنے والا آئے گا آپ کی غلامی میں ہی آئے گا۔یہی ہمیں احادیث سے اور قرآن کریم سے بھی پتہ لگتا ہے۔رسول کریم صلی الم نے حضرت عامر کی حضرت یزید بن منذر سے مواخات قائم فرمائی تھی۔147 حضرت عامر بن ربیعہ نے حضرت عثمان کی شہادت کے چند دن بعد وفات پائی۔148 آپ کے والد کا نام ربیعہ بن کعب بن مالک بن ربیعہ تھا۔آپؐ سے بعض روایات بھی ملتی ہیں۔عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ اپنی والدہ حضرت ام عبد اللہ لیلیٰ بنت ابو حنتمہ سے روایت کرتے ہیں کہ وہ بیان کرتی ہیں کہ ہم حبشہ کی طرف کوچ کرنے والے تھے اور عامر بن ربیعہ ہمارے کسی کام کے سلسلہ میں کہیں گئے ہوئے تھے کہ حضرت عمر جو کہ ابھی حالت شرک میں تھے وہاں آ نکلے اور میرے سامنے کھڑے ہو گئے اور ہمیں ان سے سخت تکلیف اور سختیاں پہنچی تھیں۔حضرت عمرؓ نے مجھ سے کہا۔اے ام عبد اللہ ! کیا روانگی ہے ؟ میں نے کہا ہاں اللہ کی قسم ! ہم اللہ کی زمین میں جاتے ہیں یہاں تک کہ اللہ ہمارے لیے کشادگی پیدا کر دے۔تم لوگوں نے ہمیں بہت دکھ دیا ہے اور ہم پر بہت سختیاں کی ہیں۔اس پر حضرت عمر نے ان سے کہا۔اللہ تمہارا نگہبان ہو ! وہ کہتی ہیں کہ میں نے اس دن حضرت عمر کی آواز میں وہ رقت دیکھی جو پہلے کبھی نہ دیکھی تھی۔اس کے بعد حضرت عمر وہاں سے چلے گئے اور ان کو ہمارے کوچ کرنے نے غمگین کر دیا تھا۔وہ کہتی ہیں کہ اتنے میں حضرت عامر اپنے کام سے فارغ ہو کر واپس آگئے تو میں نے ان سے کہا اے ابو عبد اللہ ! کیا آپ نے ابھی عمر اور ان کی رفت اور دکھ کو دیکھا۔بتایا ہو گا انہوں نے۔حضرت عامر نے جواب دیا کہ کیا تو اس کے مسلمان ہونے کی خواہشمند ہے ؟ وہ کہتی ہیں کہ میں نے کہا ہاں۔اس پر حضرت عامر نے کہا۔خطاب کا گدھا مسلمان ہو سکتا ہے مگر وہ شخص جس کو تو نے ابھی دیکھا ہے یعنی حضرت عمرؓ وہ اسلام نہیں لا سکتا۔حضرت لیلیٰ کہتی ہیں کہ حضرت عامر نے یہ بات اُس نا امیدی کی وجہ سے کہی تھی جو ان کو حضرت عمر کے اسلام کی مخالفت اور سختی کی وجہ سے پید اہو گئی تھی۔140 رض حضرت عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سریہ نخلہ جس کا نام سر یہ عبد اللہ بن جحش بھی ہے، یہ غزوہ بدر سے پہلے کا ہے اس پر روانہ فرمایا اور ہمارے ساتھ حضرت عمرو بن سراقہ بھی تھے اور وہ ہلکے پیٹ والے اور لمبے قد والے تھے۔راستے میں ان کو شدید بھوک لگی جس کی وجہ سے وہ دہرے ہو گئے اور ہمارے ساتھ چلنے کی استطاعت نہ رکھ سکے اور گر پڑے۔بھوک کی یہ حالت تھی۔ہم نے ایک پتھر کا