اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 517 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 517

اصحاب بدر جلد 5 517 نہ کر وجو میں نہیں جانتا۔یعنی میں نے تو کبھی نہیں ایسا کہا۔تم میں سے جو کوئی بھی فوت ہو جب تک میں تمہارے درمیان ہوں مجھے اس کے بارے میں ضرور اطلاع کیا کرو کیونکہ اس پر میری دعا اس کے لیے باعث رحمت ہے۔پھر آپ صلی علیہم اس کی قبر پر تشریف لے گئے اور ہم نے آپ کے پیچھے صف بنائی اور آپ نے اس پر چار تکبیریں پڑھیں۔1206 مسجد نبوی میں جھاڑو دینے والی ایک سیاہ فام خاتون کی قبر پر تشریف لے جانا صحیح بخاری کی ایک روایت ہے جو حضرت ابوہریرہ سے ہے کہ ایک سیاہ فام خاتون کے متعلق روایت مروی ہے۔یہ قبر پہ جنازہ پڑھنے کے بارے میں ہے جس میں یہ بیان ہے کہ وہ مسجد نبوی میں جھاڑو دیا کرتی تھی۔خاتون مسجد نبوی میں جھاڑو دیا کرتی تھی وہ فوت ہو گئی۔نبی کریم صلی الم نے جب اسے چند روز نہ دیکھا تو آپ نے اس خاتون کے متعلق پوچھا۔لوگوں نے بتایا کہ وہ فوت ہو گئی ہے۔آپ مصلی تعلیم نے فرمایا پھر کیا تم نے مجھے اس کی اطلاع نہیں دینی تھی۔اس عورت کی قبر کا پتا بتاؤ۔چنانچہ آپ اس عورت کی قبر پر تشریف لے گئے اور اس کا جنازہ پڑھا۔207 سنن ابن ماجہ کی شرح انجاز الحاجہ کا مصنف لکھتا ہے کہ یہ ایک سیاہ فام خاتون تھی جس کا نام امام بیہقی نے ایم محجن بیان کیا ہے اور ابن مندہ نے اس کا نام خرقاء بیان کیا ہے اور صحابیات میں سے اس کو شمار کیا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ خرقاء اس خاتون کا نام ہو اور اقر محجن اس کی کنیت ہو۔یعنی دونوں نام صحیح ہیں۔1208 318 نام و نسب حضرت یزید بن حارث حضرت يزيد بن حارث۔حضرت یزید بن حارث کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کے خاندان بنو اخمر بن حارثہ سے تھا۔حضرت یزید کے والد کا نام حارث بن قیس اور والدہ کا نام فسخم تھا جو قبیلہ قین بن بشر سے تعلق رکھتی تھیں۔قین یمن میں قُضَاعَہ کا ایک قبیلہ تھا۔حضرت یزید اپنی والدہ کی نسبت سے یزید فُسحم اور یزید بن فُسحم کے نام سے بھی پکارے جاتے تھے۔حضرت یزید بن حارث کے ایک بھائی عبد اللہ بن فُسحم بھی تھے۔ان کا نام ذوالشمالین، بھی تھا۔حضرت محمیر بن عبدا عمرو ذوالشمالین کے بارے میں ابن ہشام بیان کرتے ہیں کہ انہیں 1209