اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 507 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 507

اصحاب بدر جلد 5 منافقین کا گڑھ 507 مدینے کے ایک یہودی کا نام سویلم تھا۔وہ مدینہ کے علاقے جاسُوم میں مقیم تھا جس کو بہتر جاسم بھی کہتے ہیں۔یہ مدینے میں شام کی سمت ابو الْهَيْشم بن تیمان کا کنواں تھا۔اس کا پانی بہت عمدہ تھا۔آنحضرت صلی اللہ ہم نے بھی اس پانی کو پیا اور پسند فرمایا۔اس یہودی کا گھر منافقوں کا گڑھ تھا۔نبی کریم صلی ا یم کو خبر ملی کہ منافقین وہاں اکٹھے ہو رہے ہیں اور وہ لوگوں کو غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی علیم کے ہمراہ جانے سے روک رہے ہیں۔آنحضرت صلی علیہ الم نے حضرت عمار بن یاسر کو فرمایا کہ ان لوگوں کے پاس جاؤ اور ان سے جاکر ان باتوں کے بارے میں پوچھو جو انہوں نے کہی ہیں۔اگر وہ ان سے انکار کریں تو انہیں بتا دینا کہ مجھے خبر ہے تم نے یہ یہ کہا ہے۔جب حضرت عمار وہاں پہنچے اور انہوں نے وہ سب کہا تو وہ لوگ آپ صلی الم کی خدمت میں آکر معذر تیں کرنے لگے۔1171 ان کی اس حالت کو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ يَحْذَرُ الْمُنْفِقُونَ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ مَا فِي قُلُوبِهِمْ قُلِ اسْتَهْزِءُوا إِنَّ اللهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ۔وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ بِاللهِ وَايْتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَائِفَةٍ مِنْكُمْ نُعَذِّبْ طَائِفَةٌ بِأَنَّهُمْ كَانُوا مُجْرِمِينَ (التو به 4 6 66) کہ منافق ڈرتے ہیں کہ ان کے خلاف کوئی سورت نازل نہ کر دی جائے جو ان کو اس سے مطلع کر دے جو ان کے دلوں میں ہے۔تو کہہ دے کہ بے شک تمسخر کرتے رہو۔یہ ڈرنے کا ذکر بھی تمسخرانہ انداز میں کرتے ہیں۔اللہ تو یقین ظاہر کر کے رہے گا جس کا تمہیں خوف ہے اور اگر تو ان سے پوچھے تو ضرور کہیں گے کہ ہم تو محض گپ شپ میں محو تھے اور کھیلیں کھیل رہے تھے۔تو پوچھ کیا اللہ اور اس کے نشانات اور اس کے رسول سے تم استہزا کر رہے تھے ؟ کوئی عذر پیش نہ کرو یقینا تم اپنے ایمان لانے کے بعد کا فر ہو چکے ہو۔اگر ہم تم میں سے کسی ایک گروہ سے در گزر کریں تو کسی دوسرے گروہ کو عذاب بھی دے سکتے ہیں۔اس لیے کہ وہ یقینا مجرم ہیں۔بہر حال اس وقت یہ حالات تھے۔کچھ جانے سے پہلے منصوبے بن رہے تھے کہ نہ جایا جائے۔منافقین ان میں شامل تھے یہودی ان کو ابھار رہے تھے۔کچھ ویسے بہانے بناتے رہے اور بعد میں واپسی پر آنحضرت صلی ا کرم کی خدمت میں بہانے بنائے۔بہر حال آپ نے ان کا معاملہ اللہ پہ چھوڑا۔جب آنحضرت صلی نام غزوہ تبوک سے واپس لوٹے اور مدینے کے قریب پہنچے تو آپ نے فرمایا مدینے میں کچھ لوگ ایسے ہیں کہ وہ ہر سفر اور ہر وادی میں تمہارے ساتھ تھے۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! جبکہ وہ مدینے میں ہیں تو پھر کس طرح ساتھ ہو گئے ؟ آپ نے فرمایا ہاں وہ مدینہ میں ہی ہیں مگر انہیں کسی عذر نے یا کسی مرض نے روک لیا تھا۔1172