اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 36 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 36

اصحاب بدر جلد 5 36 اور اسے مار کر زخمی کر دیا۔کسی نے ان کے ماں اروی کو شکایت کی کہ آپ دیکھتی نہیں کہ آپ کے بیٹے نے کیا کیا ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ إِنَّ طَلَيْبًا نَصَرَ ابْنَ خَالِهِ وَاسَادُ فِي ذِى دَمِهِ وَمَالِه یعنی طیب نے اپنے ماموں کے بیٹے کی مدد کی ہے۔اس نے اپنے خون اور اپنے مال کے ذریعہ اس کی غم خواری کی ہے۔بعض کے مطابق آپ نے جس شخص کو مارا تھا اس کا نام ابو الاب بن عزیز دار ھی تھا اور بعض روایات کے مطابق وہ شخص جس کو حضرت حلیب نے زخمی کیا تھا وہ ابولہب یا ابو جہل تھا۔ایک روایت کے مطابق جب آپ کے حملہ کرنے کے متعلق آپ کی والدہ سے شکایت کی گئی تو انہوں نے کہا کہ محلیب کی زندگی کا سب سے بہترین دن وہی ہے جس دن وہ اپنے ماموں کے بیٹے یعنی آنحضرت صلی کم کادفاع کرے جو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حق کے ساتھ آیا ہے۔102 حبشہ کی طرف ہجرت حضرت طليب حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والے مسلمانوں میں شامل تھے۔لیکن جب حبشہ میں قریش کے مسلمان ہونے کی افواہ پہنچی تو کچھ مسلمان واپس مکہ تشریف لے آئے۔حضرت طلیب بھی ان میں شامل تھے۔103 ہجرت حبشہ ثانیہ جیسا کہ پہلے بھی بیان ہو چکا ہے اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کے خیال میں تو بعض مورخین ہیں، سب نہیں ( جنہوں نے بیان کیا ہے) کہ ابھی ان مہاجرین کو حبشہ میں گئے زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ اڑتی ہوئی افواہ پہنچی کہ تمام قریش مسلمان ہو گئے ہیں اور مکہ بالکل امن میں آگیا ہے۔چنانچہ بعض لوگ سوچے سمجھے بغیر واپس آگئے اور پھر پتا لگا کہ خبر جھوٹی ہے۔اس کی تفصیل میں چند ہفتوں پہلے خطبوں میں بیان کر چکا ہوں۔بہر حال واپس آئے تو پتا لگا۔جب حقیقت پتا لگی تو کچھ نے وہاں مکہ کے رئیسوں کی پناہ لی، سرداروں کی پناہ لی اور کچھ واپس چلے گئے کیونکہ وہ تو بالکل جھوٹ تھا اور کیوں یہ افواہ ہوئی تھی اس کا بیان میں پہلے بھی کر چکا ہوں اس لیے یہاں بیان کی ضرورت نہیں ہے۔بہر حال جب وہ صحابہ اس وجہ سے واپس چلے گئے تھے کہ قریش کے ظلم اور ایذارسانی جو تھی وہ روز بروز بڑھ رہی تھی اور آنحضرت صلی علی کیم کے ارشاد پر اور مسلمان بھی خفیہ طور پر آہستہ آہستہ ہجرت کر رہے تھے۔کہا جاتا ہے کہ مہاجرین حبشہ کی تعداد 101 تک پہنچ گئی تھی جن میں اٹھارہ خواتین بھی تھیں اور آنحضرت صلی علیم کے پاس بہت تھوڑے مسلمان رہ گئے تھے۔اس واپس آنے کے بعد جو دوبارہ ہجرت کی اور اس کے بعد بھی جو مسلمان ہجرت کر کے گئے اسی ہجرت کو مورخین ہجرت حبشہ ثانیہ کہتے ہیں۔104