اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 33 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 33

اصحاب بدر جلد 5 33 بد بخت انسان جو حضرت علی کے لشکر کا سپاہی تھا اس نے پیچھے سے جا کر آپ کو خنجر مار کر شہید کر دیا۔حضرت علی اپنی جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے۔وہ جو حضرت طلحہ کا قاتل تھا وہ اس خیال سے کہ مجھے بہت بڑا انعام ملے گا دوڑتا ہوا آیا اور اس نے حضرت علی کو کہا کہ اے امیر المومنین! آپ کو آپ کے دشمن کے مارے جانے کی خبر دیتا ہوں۔حضرت علی نے کہا کون دشمن ؟ اس نے کہا اے امیر المومنین ! میں نے طلحہ کو مار دیا ہے۔حضرت علیؓ نے فرمایا اے شخص! میں بھی تجھے رسول کریم صلی الی یکم کی طرف سے بشارت دیتا ہوں کہ تو دوزخ میں ڈالا جائے گا کیونکہ رسول کریم صلی علیم نے ایک دفعہ فرمایا تھا جبکہ طلحہ بھی بیٹھے ہوئے تھے اور میں بھی بیٹھا ہو ا تھا کہ اے طلحہ اتو ایک دفعہ حق و انصاف کی خاطر ذلت برداشت کرے گا اور تجھے ایک شخص مار ڈالے گا مگر خدا اس کو جہنم میں ڈالے گا۔اس لڑائی میں جب حضرت علی اور حضرت طلحہ اور زبیر کے لشکر کی صفیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے کھڑی ہوئیں تو حضرت طلحہ اپنی تائید میں دلائل بیان کرنے لگے۔یہ اس وقت سے پہلے کی بات ہے جب ایک صحابی نے انہیں حدیث یاد دلائی تھی اور وہ جنگ چھوڑ کر چلے گئے تھے۔وہ دلائل بیان کر ہی رہے تھے کہ حضرت علی کے لشکر میں سے ایک شخص نے کہا اوٹنڈے چپ کر۔حضرت طلحہ کا ایک ہاتھ بالکل نشل تھا وہ کام نہیں کرتا تھا۔جب اس نے کہا اوٹنڈے چپ کر۔تو حضرت طلحہ نے فرمایا کہ تم نے کہا تو یہ ہے کہ ٹنڈے چپ کر مگر تمہیں پتا بھی ہے کہ میں ٹنڈا کس طرح ہوا ہوں۔اُحد کی جنگ میں جب مسلمانوں کے قدم اکھڑ گئے اور رسول کریم صلی علیم کے ساتھ صرف بارہ آدمی رہ گئے تو تین ہزار کافروں کے لشکر نے ہمیں گھیرے میں لے لیا اور انہوں نے اس خیال سے چاروں طرف سے رسول کریم ملی این ظلم پر تیر برسانے شروع کر دیے کہ اگر آپ مارے گئے تو تمام کام ختم ہو جائے گا۔اس وقت کفار کے لشکر کے ہر سپاہی کی کمان محمد رسول اللہ صلی علیم کے منہ کی طرف تیر پھینکتی تھی۔تب میں نے اپنا ہاتھ رسول کریم صلی املی کام کے منہ کے آگے کر دیا اور کفار کے لشکر کے سارے تیر میرے اس ہاتھ پر پڑتے رہے یہاں تک کہ میر اہاتھ بالکل بیکار ہو کر ٹنڈا ہو گیا مگر میں نے رسول کریم صلی علیم کے منہ کے آگے سے اپنا ہاتھ نہیں ہٹایا۔5 جنگ جمل کے موقع پر ایک اور جگہ حضرت طلحہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں۔کسی نے کہا کہ وہ ٹنڈ امار ا گیا۔ایک صحابی نے جو اس بات کو سن رہے تھے کہا کمبخت تجھے معلوم ہے کہ وہ ٹنڈا کیسے ٹنڈا ہوا! جنگ احد کے موقع پر جب ایک غلط فہمی کی وجہ سے صحابہ کا لشکر میدان جنگ سے بھاگ گیا اور کفار کو یہ معلوم ہوا کہ رسول کریم صلی علیکم صرف چند افراد کے ساتھ میدانِ جنگ میں رہ گئے ہیں تو قریباً تین ہزار کافروں کا لشکر آپ پر چاروں طرف سے امڈ آیا اور سینکڑوں تیر اندازوں نے کمانیں اٹھا لیں اور اپنے تیروں کا نشانہ رسول کریم صلی علیم کے منہ کو بنالیا تا کہ تیروں کی بوچھاڑ سے اس کو چھید ڈالیں۔اس وقت وہ شخص جس نے رسول کریم صلی علی کرم کے چہرہ مبارک کی حفاظت کے لیے اپنے آپ کو کھڑا کیا وہ طلحہ تھا۔طلحہ نے اپنا ہاتھ رسول کریم صلی علی یکم کے آگے کھڑا کر دیا اور ہر تیر جو گرتا تھا 95