اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 445
اصحاب بدر جلد 5 445 پوچھا کیا تم نے اپنی تلواریں پونچھ کر صاف کر لی ہیں ؟ انہوں نے کہا نہیں۔آپ نے تلواروں کو دیکھ کر فرمایا کہ تم دونوں نے ہی اس کو مارا ہے اس کا سامان غنیمت معاذ بن عمرو بن جموح کو ملے گا اور ان دونوں کا نام معاذ تھا۔مُعاذ بن عفراء اور مُعَاذ بن عمرو بن جموح 28 رم 1028P ابو جہل کو قتل کرنے والے کون کون تھے پہلے بھی شروع میں ایک دفعہ معاذ اور مُعوّذ کے واقعات کو بیان کر چکا ہوں اور یہاں پھر ابہام پید اہو سکتا ہے۔اس لیے اس قتل کا واقعہ جو متفرق کتب حدیث میں سیرت میں بھی بیان ہوا ہے اور یہ جو بخاری سے بھی روایت بیان ہوئی ہے اس میں یہ ذکر ہے کہ حضرت معاذ بن عمرو بن جموح “ اور حضرت معاذ بن عفراء نے ابو جہل پر حملہ کر کے اسے قتل کیا تھا اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے ابو جہل کا سر قلم کیا تھا۔دوسری جگہ معاذ اور معوّذ کا ذکر ملتا ہے۔بہر حال اس کے علاوہ بخاری میں ہی ایسی روایات بھی ہیں جب میں یہ ذکر ہے کہ ابو جہل کو عفراء کے دو بیٹوں معاذ اور معوذ نے قتل کیا تھا اور بعد میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے جاکر اس کا کام تمام کیا۔چنانچہ بخاری کی ایک روایت میں اس کی تفصیل یوں بیان ہوئی ہے: حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی علیم نے جنگ بدر کے دن فرمایا کون دیکھے گا کہ ابو جہل کا کیا حال ہوا ہے ؟ حضرت ابن مسعودؓ گئے اور جاکر دیکھا کہ اس کو عفراء کے دونوں بیٹوں معاذ اور معوذ نے تلواروں سے مارا ہے کہ وہ مرنے کے قریب ہو گیا ہے۔حضرت ابن مسعودؓ نے پوچھا کیا تم ابو جہل ہو ؟ حضرت ابن مسعودؓ کہتے ہیں انہوں نے ابو جہل کی داڑھی پکڑی۔ابو جہل کہنے لگا کیا اس سے بھی بڑھ کر کوئی شخص ہے جس کو تم نے مارا یا یہ کہا کہ اس شخص سے بڑھ کر کوئی ہے جس کو اس کی قوم نے مارا ہو ؟ 1029 یہ دونوں روایتیں بخاری میں ہی ملتی ہیں۔دو نام معاذ آتے ہیں اور ایک جگہ معاذ اور مُعوّذ کے نام آتے ہیں۔ایک جگہ دونوں کی ولدیت مختلف ہے۔ایک جگہ ایک ہی باپ کے دونوں بیٹے کہلاتے ہیں۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب ابو جہل کے قاتلین کی کہ کس طرح اس کی تطبیق کی جائے، کس طرح اس کی وضاحت ہو ؟ اس کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ " بعض روایات میں ہے کہ عفراء کے دو بیٹوں (معوذ اور معاف) نے ابو جہل کو موت کے قریب پہنچا دیا تھا۔بعد ازاں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے اس کا سر تن سے جد ا کیا تھا۔امام ابن حجر نے اس احتمال کا اظہار کیا ہے کہ معاذ بن عمرو اور معاذ بن عفراء کے بعد معوذ بن عفراء نے بھی اس پر وار کیا ہو گا۔"1030 اس لیے پہلی دو روایتوں میں ان دنوں بھائیوں کا بھی ذکر ملتا ہے۔دوسری روایت میں دو مختلف لوگوں کا ذکر ملتا ہے اور جو شرح فتح الباری ہے اس میں لکھا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ یہ تینوں ہی ہوں۔علامہ بدرالدین عینی ابو جہل کے قاتلین کی تطبیق کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ابو جہل کو معاذ بن عمرو بن جموح اور معاذ بن عفراء اور حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے قتل کیا تھا۔حضرت عبد اللہ نے