اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 446 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 446

اصحاب بدر جلد 5 446 رض 1031 1032 اس کا سر قلم کیا اور نبی صلی لی کمی کی خدمت میں لے کر حاضر ہوئے۔علامہ بدرالدین عینی مزید لکھتے ہیں کہ صحیح مسلم میں ہے کہ جن دونوں نے ابو جہل کو قتل کیا تھا وہ معاذ بن عمرو بن جموح اور مُعَاذ بن عَفْرَاء ہیں۔مُعَاذ بن عَفْراء کے والد کا نام حارث بن رفاعہ تھا اور عفراء ان کی ماں تھیں جو عبید بن ثَعْلَبه نجاریہ کی بیٹی تھیں۔اسی طرح بخاری کتاب الجہاد میں باب مَنْ لَّمْ يُخَمسِ الْأَسْلَابَ میں ذکر آچکا ہے کہ حضرت معاذ بن عمرو " تھے جنہوں نے ابو جہل کی ٹانگ کائی اور گرادیا تھا۔پھر معوذ بن عفراء نے اس کو مارا یہاں تک کہ اس نے اس کو زمین پر گرادیا۔پھر اس کو چھوڑ دیا جبکہ اس میں ابھی کچھ رمق باقی تھی، جان تھی۔پھر حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے اس پر کاری ضرب لگائی اور اس کا سر جدا کر دیا۔پھر یہ لکھتے ہیں کہ اگر تو کہے کہ ان تمام باتوں کو یوں اکٹھا بیان کرنے کی کیا ضرورت ہے تو میں یہ کہتا ہوں کہ شاید ابو جہل کا قتل ان سب کا کام تھا اس لیے اکٹھا کیا ہے۔2 زرقانی کی ایک روایت کے مطابق حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے جب ابو جہل کو دیکھا تو اس کو اس حال میں پایا کہ آخری سانس لے رہا تھا۔اس پر حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے اپنی ٹانگ ابو جہل کی گردن پر رکھ کر کہا کہ اے اللہ کے دشمن ! اللہ نے تجھے رسوا کر دیا ہے۔اس پر ابو جہل نے متکبرانہ انداز میں کہا میں تو کوئی رسوا نہیں ہوا۔اور کیا تم نے مجھ سے بھی معزز کسی اور شخص کو قتل کیا ہے ؟ یعنی مجھے تو اس میں کوئی عار محسوس نہیں ہو رہا۔پھر ابو جہل نے پوچھا کہ مجھے بتاؤ کہ میدان کس کے ہاتھ میں رہا۔فتح اور کامیابی کس کے ہاتھ میں رہی ؟ تو حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے جواب دیا کہ اللہ اور رسول کی فتح ہوئی۔ابو جہل۔۔۔۔اس امت کا فرعون ایک دوسری روایت میں یہ بھی ہے کہ ابو جہل نے کہا اس یعنی حضرت محمد رسول اللہ صلی الل علم سے یہ بات بھی کہنا کہ میں ساری زندگی اس شخص کا دشمن رہا اور آج اس وقت بھی میں اس کی دشمنی اور عداوت میں انتہا تک ہوں۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے ابو جہل کا سر قلم کیا اور اس کا سر لے کر جب آنحضرت ملا لی کم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی علیم نے فرمایا کہ جس طرح میں اللہ کے نزدیک تمام نبیوں سے زیادہ معزز اور مکرم ہوں اور میری امت اللہ کے نزدیک باقی تمام امتوں سے زیادہ معزز اور مکرم ہے اسی طرح اس امت کا فرعون باقی تمام امتوں کے فراعین سے زیادہ سخت اور متشد د ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ حتّی اِذَا اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ قَالَ أَمَنْتُ اَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِي أَمَنَتْ بِهِ بَنْوا اسراءیل (یونس: 91) قرآن شریف میں سورہ یونس میں آیا ہے کہ جب اسے غرقابی نے آلیا تو اس نے کہا میں ایمان لاتا ہوں کہ کوئی معبود نہیں مگر وہ جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے۔جبکہ اس امت کا فرعون دشمنی اور کفر میں بہت بڑھ کر ہے۔جس طرح کہ مرتے ہوئے ابو جہل کی باتوں سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔اس کے علاوہ روایات میں یہ بھی ذکر ملتا ہے کہ ابو جہل کی ہلاکت کی خبر ملنے پر آنحضرت صلی ا ہم نے ابو جہل کا سر دیکھنے پر فرمایا کہ اللہ الذی لا إِلَهَ إِلَّا هُوَ کہ اللہ وہ ذات ہے جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔