اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 435
اصحاب بدر جلد 5 435 محبت نہیں کرتا کہ اس میں نہریں کھو دوں یا اس میں درخت لگاؤں بلکہ اس لیے کہ دو پہر کی پیاس اور حالات کی تکالیف برداشت کروں اور ان علماء کے ساتھ بیٹھوں جہاں تیرا ذکر کیا جائے۔پھر ایک اور روایت میں ہے کہ جب حضرت معاذ کی وفات کا وقت قریب آیا تو وہ رونے لگے۔ان سے کہا گیا کہ آپ کیوں روتے ہیں ؟ آپ تو رسول اللہ صلی علیکم کے ساتھی ہیں۔تو انہوں نے کہا کہ میں مرنے کے غم کی وجہ سے نہیں رور ہا اور نہ اس لیے کہ دنیا پیچھے چھوڑے جارہا ہوں بلکہ میں تو صرف اس لیے رورہا ہوں کہ دو گروہ ہوں گے اور میں نہیں جانتا کہ میں کس گروہ میں اٹھایا جاؤں گا۔1004 1005 ایک جنتی ہے اور ایک دوزخی اور مجھے تو صرف اللہ کا خوف ہے اس لیے رورہاہوں۔مسند احمد بن حنبل میں روایت ہے کہ حضرت معاذ نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی للی نام کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ عنقریب تم شام کی طرف ہجرت کرو گے اور وہ تمہارے ہاتھوں فتح ہو جائے گا لیکن وہاں تم لوگوں میں ایک بیماری ظاہر ہو گی جو پھوڑے پھنسیوں یا سخت کاٹنے والی چیز کی طرح ہو گی۔وہ انسان کی ناف کے نچلے حصے میں ظاہر ہو گی۔اللہ اس کے ذریعے انہیں شہادت عطا فرمائے گا اور ان کے اعمال کا تزکیہ فرمائے گا۔اے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ معاذ بن جبل نے نبی کریم صلی علیم سے یہ حدیث سنی ہے تو اسے اور اس کے اہل خانہ کو اس کا وافر حصہ عطا فرما۔یہ آپ ہی فرمارہے ہیں۔چنانچہ وہ سب اس طاعون میں مبتلا ہو گئے اور ان میں سے ایک بھی زندہ باقی نہیں رہا۔جب حضرت معاذ کی شہادت والی انگلی میں طاعون کی گلٹی نمودار ہوئی تو آپ فرماتے تھے کہ مجھے اس کے بدلے میں سرخ اونٹ ملنا بھی پسند نہیں ہیں۔میں اسی بات پر خوش ہوں۔تاریخ طبری میں ہے کہ آپ کی ہتھیلی میں پھوڑا نکلا۔آپ اپنی ہتھیلی کو دیکھتے اور اس ہاتھ کی پشت کو بوسہ دیتے اور کہتے مجھے یہ پسند نہیں کہ تیرے بدلے میں دنیا کی کوئی چیز ملے۔حضرت معاذ بن جبل نے 18 ہجری میں وفات پائی۔آپ کی عمر کے متعلق مختلف آراء ہیں ان کے مطابق تینتیس چونیتس اور اڑتیس سال عمر بیان کی گئی ہے۔1007 حضرت معاذ کی روایات کی تعداد جو حدیثوں میں ہے 157 ہے جس میں سے دو حد بیٹوں پر بخاری اور مسلم کا اتفاق ہے۔دونوں میں یہ درج ہیں۔سب سے پہلے تو میں ایک وضاحت کرنا چاہتا ہوں۔دو خطبے پہلے حضرت معاذ بن جبل کے بارے میں جو بیان ہوا تھا اس میں مسند احمد بن حنبل کی ایک روایت تھی جس میں طاعون کے بارے میں کہا گیا تھا کہ رسول پاک صلی اللہ یکم نے فرمایا تھا کہ عنقریب تم شام کی طرف ہجرت کرو گے ، اور وہ تمہارے ہاتھوں فتح ہو جائے گا لیکن وہاں پھوڑے پھنسیوں کی ایک بیماری تم پر مسلط ہو جائے گی جو آدمی کو سیڑھی کے پائے سے پکڑلے گی۔یہ ترجمے میں غلطی تھی صحیح طرح ترجمہ بیان نہیں ہو سکا تھا، اور اس سے بات واضح تبھی نہیں ہوتی تو اس بارے میں صحیح ترجمے کے ساتھ جو روایت ہے وہ دوبارہ بیان کرتاہوں۔اسماعیل بن 1008 1006