اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 413 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 413

اصحاب بدر جلد 5 413 تاریخ کی مختلف کتابوں میں بس یہی حوالہ درج ہے۔اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت معاذ بن جبل نے بنو سلمہ کے نوجوانوں کے ساتھ مل کر بنو سلمہ کے بت توڑے تھے۔946 اپنے خاندان کے بت توڑنا پہلے ایک صحابی کے ذکر میں یہ واقعہ بیان ہو چکا ہے کہ وہ کس طرح اپنے خاندان کے ، گھر والوں کے بت توڑتے تھے 947 اور یہاں بھی بیان کر دیتا ہوں۔حضرت عمرو بن جموح نے اپنے گھر میں ہی لکڑی کا ایک بت بنا کر اسے منات کا نام دے رکھا تھا اور اس کی بڑی تعظیم کرتے تھے۔بیعت عقبہ ثانیہ کے موقعے پر بنو سلیمہ کے بعض نوجوانوں نے بیعت کی۔ان میں حضرت معاذ بن جبل بھی تھے۔خود عمرو کے بیٹے مُعاذ نے بھی بیعت کر لی تھی اور یہ واقعہ جو میں کہہ رہاہوں یہ پہلے معاذ بن عمرو کے ضمن میں بیان ہو چکا ہے۔تو کہتے ہیں انہوں نے اپنے والد عمرو کو اسلام کی طرف بلانے کے لیے تدبیر کی کہ حضرت عمر و کاوہ بت جسے انہوں نے اپنے گھر میں سجار کھا تھا، رات کو اسے اٹھا کے کوڑے کا جو گڑھا تھا، ڈھیر تھاوہاں پھینک آتے تھے اور جن لڑکوں کی مدد لیا کرتے تھے ان میں حضرت معاذ بن جبل بھی شامل تھے۔بہر حال ایک دن اس کوڑے میں انہوں نے اٹھا کے پھینک دیا۔عمر و اسے تلاش کر کے اپنے گھر لے آئے اور کہا کہ اگر مجھے اس شخص کا پتہ چل جائے جو میرے بت کے ساتھ یہ سلوک کرتا ہے تو میں اسے عبرتناک سزا دوں گا۔اگلے دن پھر ان نوجوانوں نے اس بت کے ساتھ وہی سلوک کیا۔وہ پھر گڑھے میں الٹا پڑا تھا۔وہ پھر اسے اٹھا کے لے آئے۔تیسرے دن پھر اس بت کو صاف ستھرا کر کے سجا کے رکھا اور ساتھ اپنی تلوار ٹانگ دی اور بت کو مخاطب کر کے کہا کہ خدا کی قسم ! مجھے نہیں پتہ کہ کون تمہارے ساتھ یہ حرکتیں کرتا ہے لیکن اب میں تلوار بھی تمہارے ساتھ چھوڑ کے جارہا ہوں اپنی حفاظت اب خود کر لینا، تلوار اب تمہارے پاس ہے۔اگلے دن پھر حضرت عمرو نے دیکھا کہ بت اپنی جگہ موجود نہیں ہے اور پھر محلے کے اسی گڑھے کے اندر ایک مُردہ کتے کے گلے میں وہ بندھا ہوا پڑامل گیا۔یہ دیکھ کے وہ بہت سٹپٹائے اور سخت پریشان ہو کر سوچنے پر مجبور ہو گئے کہ وہ بت جسے میں نے خدا بنا کر رکھا ہوا ہے اس میں تو اتنی قدرت اور طاقت بھی نہیں ہے کہ تلوار پاس ہوتے ہوئے اپنے آپ کو بچا سکے ، اس نے میری کیا حفاظت کرنی ہے اور پھر اس پر مزید یہ کہ ایک مردہ کتا اس کے گلے میں پڑا ہوا ہے۔پھر یہ خدا کیسے ہو سکتا ہے۔بہر حال یہ بات پھر ان کو اسلام کی طرف مائل کرنے والی بنی اور اسلام قبول کرنے کا موجب بن گئی۔48 آنحضرت صلی الم سے محبت و اخلاص حضرت معاذ بن جبل " کے آنحضرت صلی علیم سے محبت و اخلاص کا اس بات سے بھی اندازہ ہوتا