اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 387
اصحاب بدر جلد 5 387 وقت یہ چاہتی تھی کہ میں ان کے پاس جا کر اس کی نسبت معلوم کروں یعنی یہ الزام جو لگا ہے۔آپ صلی این یکم نے مجھے اجازت دے دی۔میں اپنے والدین کے پاس آئی تو میں نے اپنی ماں سے پوچھا کہ لوگ کیا باتیں کر رہے ہیں ! میری ماں نے کہا کہ بیٹی اس بات سے اپنی جان کو جنجال میں نہ ڈالو۔ہلکان نہ کرو۔اطمینان سے رہو۔اللہ کی قسم ! کم ہی ایسا ہوا ہے کہ کبھی کسی شخص کے پاس کوئی خوبصورت عورت ہو ، اس کی بیوی ہو جس سے وہ محبت بھی رکھے اور اس کی سوکنیں بھی ہوں اور پھر لوگ اس کے بر خلاف باتیں نہ کریں۔حضرت عائشہ کہتی ہیں۔میں نے اس پر کہا کہ سبحان اللہ۔لوگ ایسی بات کا چرچا کر رہے ہیں۔پھر کہتی ہیں کہ میں نے وہ رات اس طرح کائی کہ صبح تک میرے آنسو نہیں تھے۔اتنا بڑا الزام مجھ پر لگایا ہے۔ساری رات مجھے نیند نہیں آئی اور میں روتی رہی۔جب صبح اٹھی تو رسول اللہ صلی علیم نے علی بن ابی طالب اور اسامہ بن زید کو بلایا۔اس وقت جب وحی کے آنے میں دیر ہوئی تا ان دونوں سے اپنی بیوی کو چھوڑنے کے بارے میں مشورہ کریں۔یعنی یہ فیصلہ کہ اس طرح جو الزام لگایا ہے اس کے بعد آیا ان کو رکھوں نہ رکھوں ؟ اسامہ نے تو آپ کو اس محبت کی بنا پر مشورہ دیا جو ان کو آپ صلی تعلیم کی بیویوں سے تھی۔اسامہ نے کہا کہ یارسول اللہ ! آپ کی بیوی ہیں اور ہم اللہ کی قسم اسوائے بھلائی کے اور کچھ نہیں جانتے۔ہم نے تو کوئی عیب نہیں دیکھا۔حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ لیکن علی بن ابی طالب نے کہا کہ یارسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے آپ پر کچھ الله سة تنگی نہیں رکھی۔حضرت علی ذرا تیز طبیعت کے تھے۔اس لئے انہوں نے یہ مشورہ دیا کہ آپ پر بھی نہیں رکھی اور اس کے سوا اور عورتیں بھی بہت ہیں۔پھر حضرت علی نے یہ کہا کہ اس خادمہ سے پوچھئے۔جو حضرت عائشہ کی خادمہ تھیں۔ان سے پوچھیں کہ کیسی ہیں۔(وہ) آپ سے سچ سچ کہہ دے گی۔اس پر رسول اللہ صلی للہ ہم نے بریرہ کو بلایا۔وہ خادمہ تھیں اور آپ نے کہا بریرہ! کیا تم نے اس میں یعنی حضرت عائشہ میں کوئی ایسی بات دیکھی ہے جو تمہیں شبہ میں ڈالے ؟ بریرہ نے کہا کہ ہر گز نہیں۔اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے کہ میں نے حضرت عائشہ میں اس سے زیادہ کوئی اور بات نہیں دیکھی جس کو میں ان کے لئے معیوب سمجھوں کہ وہ کم عمر لڑکی ہے۔یعنی آنا چھوڑ کر سو جاتی ہے۔ذرا بے پرواہی ہے اور اتنی گہری نیند اُن کو آتی ہے کہ گھر کی بکری آتی ہے اور وہ اسے کھا جاتی ہے۔ان کی یہ ایک مثال دے کے بتایا کہ کوئی برائی تو نہیں ہے لیکن یہ کمزوری ہے۔نیند غالب آجاتی ہے۔ایسے شخص کو کون سنبھالے جس نے میری بیوی کے بارے میں مجھے دکھ دیا ہے یہ سن کر اسی دن رسول اللہ صلی علی یم نے صحابہ کو مخاطب فرمایا اور عبد اللہ بن ابی بن سلول کی شکایت کی کیونکہ اسی نے مشہور کیا تھا۔رسول اللہ صلی اللی کرم نے فرمایا ایسے شخص کو کون سنبھالے جس نے میری بیوی کے بارے میں مجھے دکھ دیا ہے۔میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ اپنی بیوی میں سوائے بھلائی کے اور کوئی بات مجھے معلوم نہیں اور ان لوگوں نے ایسے شخص کا ذکر کیا ہے جس کی بابت بھی مجھے بھلائی