اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 376
376 اصحاب بدر جلد 5 اموال کثیر سے امداد دی اور تاریخ سے ثابت ہے کہ ماہ شعبان میں بنو سعد کی طرف سے جو خطرہ مسلمانوں کو پیدا ہوا تھا اور اس کے سدباب کے لیے حضرت علی کی کمان میں ایک فوجی دستہ مدینہ سے روانہ کیا گیا تھا اس کی تہ میں بھی خیبر کے یہودیوں کا ہاتھ تھا جو ابورافع کی قیادت میں یہ سب شرارتیں کر رہے تھے۔مگر ابو رافع نے اسی پر بس نہیں کی۔اس کی عداوت کی آگ مسلمانوں کے خون کی پیاسی تھی اور آنحضرت صلی السلام کا وجود اس کی آنکھوں میں خار کی طرح کھٹکتا تھا۔چنانچہ بالآخر اس نے یہ تدبیر اختیار کی کہ جنگ احزاب کی طرح مسجد کے قبائل غطفان اور دوسرے قبیلوں کا پھر ایک دورہ کرنا شروع کیا اور انہیں مسلمانوں کے تباہ کرنے کے لیے ایک لشکرِ عظیم کی صورت میں جمع کرنا شروع کر دیا۔جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی اور مسلمانوں کی آنکھوں کے سامنے پھر وہی احزاب والے منظر پھرنے لگے تو آنحضرت صلی یکم کی خدمت میں قبیلہ خزرج کے بعض انصاری حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اب اس فتنہ کا علاج سوائے اس کے کچھ نہیں کہ کسی طرح اس فتنہ کے بانی مبانی ابورافع کا خاتمہ کر دیا جائے۔آنحضرت علی الم نے اس بات کو سوچتے ہوئے کہ ملک میں وسیع کشت و خون کی بجائے ایک مفسد اور فتنہ انگیز آدمی کا مارا جانا بہت بہتر ہے ان صحابیوں کو اجازت مرحمت فرمائی اور عبد اللہ بن عتیک انصاری کی سرداری میں چار خزرجی صحابیوں کو ابورافع کی طرف روانہ فرمایا مگر چلتے ہوئے تاکید فرمائی کہ دیکھنا کسی عورت یا بچے کو ہر گز قتل نہ کرنا۔چنانچہ 6 ہجری کے ماہ رمضان میں یہ پارٹی روانہ ہوئی اور نہایت ہوشیاری کے ساتھ اپنا کام کر کے واپس آگئی اور اس طرح اس مصیبت کے بادل مدینہ کی فضا سے ٹل گئے۔اس واقعہ کی تفصیل بخاری میں ہے جس کی روایت اس معاملہ میں صحیح ترین روایت ہے۔اس میں اس طرح درج ہے کہ براء بن عازب روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی علیہم نے اپنے صحابہ کی ایک پارٹی ابو رافع یہودی کی طرف روانہ فرمائی اور ان پر عبد اللہ بن عتیک انصاری کو امیر مقرر فرمایا۔ابورافع کا قصہ یہ تھا کہ وہ آنحضرت صلی للی کم کو سخت دکھ دیا کرتا تھا اور آپ کے خلاف لوگوں کو ابھارتا تھا اور ان کی مدد کیا کرتا تھا۔جب عبد اللہ بن عتیک اور ان کے ساتھی ابورافع کے قلعہ کے قریب پہنچے اور سورج غروب ہو گیا تو عبد اللہ بن عتیک نے اپنے ساتھیوں کو پیچھے چھوڑا اور خود قلعہ کے دروازے کے پاس پہنچے اور اس کے قریب اس طرح چادر لپیٹ کر بیٹھ گئے جیسے کوئی شخص کسی حاجت کے لیے بیٹھا ہو۔جب قلعہ کا دروازہ بند کرنے والا شخص دروازہ پر آیا تو اس نے عبد اللہ کی طرف دیکھ کر آواز دی کہ اے شخص! میں قلعے کا دروازہ بند کرنے لگا ہوں۔تم نے اندر آنا ہو تو جلد آ جاؤ۔عبد اللہ چادر میں لیٹے لپٹائے جلدی سے دروازہ کے اندر داخل ہو کر ایک طرف کو چھپ گئے اور دروازہ بند کرنے والا شخص دروازہ بند کر کے اور اس کی کنجی ایک قریب کی کھونٹی سے لٹکا کر چلا گیا۔اس کے بعد عبد اللہ بن عتیک کا اپنا بیان ہے کہ میں اپنی جگہ سے نکلا اور سب سے پہلے میں نے قلعہ کے دروازے کا قفل کھول دیا تا کہ ضرورت کے وقت جلدی اور آسانی کے ساتھ باہر نکلا جاسکے۔اس وقت ابورافع ایک چوبارے میں تھا اور اس کے پاس بہت سے لوگ مجلس جمائے بیٹھے تھے اور آپس میں باتیں کر رہے تھے۔جب یہ لوگ اٹھ کر چلے گئے اور خاموشی ہو گئی تو میں ابورافع کے مکان کی سیڑھیاں چڑھ کر