اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 23
اصحاب بدر جلد 5 23 حضرت سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علیؓ، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت سعد، حضرت عبد الرحمن اور حضرت سعید بن زید کا مقام ایسا تھا کہ میدانِ جنگ میں رسول اللہ صلی الیکم کے آگے آگے لڑتے تھے اور نماز میں آپ کے پیچھے کھڑے ہوتے تھے۔79 رض رسول اللہ لا الم نے فرمایا جو کسی شہید کو چلتا ہوا دیکھنے کی خواہش رکھتا ہو حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الم نے فرمایا کہ جو کسی شہید کو چلتا ہوا دیکھنے کی خواہش رکھتا ہو وہ طلحہ بن عبید اللہ کو دیکھ لے۔حضرت موسیٰ بن طلحہ اور حضرت عیسیٰ بن طلحہ اپنے والد حضرت طلحہ بن عبید الله سے روایت کرتے ہیں کہ اصحاب رسول صلی علیکم کہتے تھے کہ ایک اعرابی حضور صلی علیہ یکم کی خدمت میں یہ پوچھتا ہوا حاضر ہوا کہ مَنْ قَطى نَحْبَه یعنی وہ جس نے اپنی منت کو پورا کر دیا، سے کون مراد ہے ؟ اعرابی نے جب آپ سے پوچھا تو آپ نے کچھ جواب نہ دیا۔پھر اس نے پوچھا تو آپ نے جواب نہیں دیا۔پھر اس نے پوچھا مگر پھر بھی ، تیسری دفعہ بھی آپ نے جواب نہیں دیا۔پھر وہ یعنی حضرت طلحہ کہتے ہیں کہ پھر میں مسجد کے دروازے سے سامنے آیا۔میں نے اس وقت سبز لباس پہنا ہو ا تھا۔جب رسول اللہ صلی الم نے مجھے ، حضرت طلحہ کو دیکھا تو فرمایا کہ وہ سائل کہاں ہے جو پوچھتا تھا کہ مَنْ قَطى نَحْبَہ سے کون مراد ہے؟ اعرابی نے کہایا رسول اللہ ! میں حاضر ہوں۔حضرت طلحہ کہتے ہیں آپ نے میری طرف اشارہ کیا اور فرمایادیکھو یہ من قضی 80 محبة کا مصداق ہے۔عبد الرحمن بن عثمان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضرت طلحہ بن عبید اللہ کے ساتھ تھے۔ہم لوگوں نے احرام باندھ رکھا تھا۔کوئی شخص ہمارے پاس ایک پرندہ بطور ہدیہ کے لایا۔حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ اس وقت سو رہے تھے۔ہم میں سے کچھ لوگوں نے اسے کھا لیا اور کچھ لوگوں نے اجتناب کیا۔جب حضرت طلحہ بیدار ہوئے تو انہوں نے ان لوگوں سے موافقت اختیار کی جنہوں نے اسے کھالیا تھا اور فرمایا کہ ہم نے بھی حالتِ احرام میں دوسرے کا شکار نبی صلی علیم کی موجودگی میں کھالیا تھا۔حضرت عمرؓ کے آزاد کردہ غلام اسلم سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے حضرت طلحہ بن عبید اللہ کے جسم پر دو کپڑے دیکھے جو سرخ مٹی میں رنگے ہوئے تھے حالانکہ وہ احرام میں تھے۔انہوں نے پوچھا کہ اے طلحہ ! ان دونوں کپڑوں کا کیا حال ہے یعنی یہ رنگے کیوں ہوئے ہیں ؟ انہوں نے کہا امیر المومنین ! میں نے تو انہیں مٹی میں رنگا ہے۔حضرت عمرؓ نے کہا اے صحابہ کی جماعت ! تم امام ہو۔لوگ تمہاری اقتدا کریں گے۔اگر کوئی جاہل تمہارے جسم پر یہ دونوں کپڑے دیکھے گا تو کہے گا کہ طلحہ رنگین کپڑے پہنتے ہیں