اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 363 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 363

اصحاب بدر جلد 5 363 نہیں ؟ کعب نے کہا ہاں مگر کوئی چیز رہن رکھو۔محمد نے پوچھا کیا چیز ؟ اس بد بخت نے جواب دیا کہ اپنی عورتیں رہن رکھ دو۔محمد نے غصے کو دبا کر کہا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تمہارے جیسے آدمی کے پاس ہم اپنی عورتیں رہن رکھ دیں۔اس نے کہا اچھا تو پھر بیٹے سہی۔محمد بن مسلمہ نے جواب دیا کہ یہ بھی ناممکن ہے۔ہم سارے عرب کا طعن اپنے سر پر نہیں لے سکتے۔البتہ اگر تم مہربانی کرو تو ہم اپنے ہتھیار رہن رکھ دیتے ہیں۔کعب راضی ہو گیا اور محمد بن مسلمہ اور ان کے ساتھی رات کو آنے کا وعدہ دے کر واپس چلے آئے اور جب رات ہوئی تو یہ پارٹی ہتھیار وغیرہ ساتھ لے کر کعب کے مکان پر پہنچے کیونکہ اس وقت کھلے طور پر ہتھیار لا سکتے تھے جو معاہدے کے مطابق دینا تھا اور اسے گھر سے نکال کر باتیں کرتے کرتے ایک طرف کو لے گئے اور تھوڑی دیر بعد چلتے چلتے محمد بن مسلمہ یا ان کے کسی ساتھی نے کسی بہانے سے کعب کے سر پر ہاتھ ڈالا اور نہایت پھرتی کے ساتھ اس کے بالوں کو مضبوطی سے قابو کر کے اپنے ساتھیوں کو آواز دی کہ مارو۔صحابہ نے جو پہلے سے تیار تھے۔ہتھیار بند تھے، فوراً تلواریں چلا دیں اور بالآخر کعب قتل ہو کر گرا۔محمد بن مسلمہ اور ان کے ساتھی وہاں سے رخصت ہو کر جلدی جلدی آنحضرت صلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے اور آپ کو اس قتل کی اطلاع دی۔جب کعب کے قتل کی خبر مشہور ہوئی تو شہر میں ایک سنسنی پھیل گئی اور یہودی لوگ سخت جوش میں آگئے اور دوسرے دن صبح کے وقت یہودیوں کا ایک وفد آنحضرت صلی علیکم کی خدمت میں حاضر ہوا اور شکایت کی کہ ہمارا سر دار کعب بن اشرف اس طرح قتل کر دیا گیا ہے۔آنحضرت صلی ا ہم نے ان کی بات سن کر فرمایا کیا تمہیں یہ بھی معلوم ہے کہ کعب کس کس جرم کا مرتکب ہوا ہے ؟ اور پھر آپ نے اجمالاً ان کو کعب کی عہد شکنی اور تحریک جنگ اور فتنہ انگیزی اور فحش گوئی اور سازش قتل و غیرہ کی کارروائیاں یاد دلائیں جس پر یہ لوگ ڈر کر خاموش ہو گئے۔انہوں نے مزید شور نہیں مچایا۔اس کے بعد آنحضرت صلی علی کرم نے ان سے فرمایا کہ تمہیں چاہیے کہ کم از کم آئندہ کے لیے ہی امن اور تعاون کے ساتھ رہو اور عداوت اور فتنہ وفساد کا بیج نہ بوؤ۔چنانچہ یہود کی رضامندی کے ساتھ آئندہ کے لیے ایک نیا معاہدہ لکھا گیا اور یہود نے مسلمانوں کے ساتھ امن و امان کے ساتھ رہنے اور فتنہ وفساد کے طریقوں سے بچنے کا از سر نو وعدہ کیا۔اگر کعب مجرم نہ ہوتا تو یہودی کبھی اتنی آسانی سے نیا معاہدہ نہ کرتے اور اس کے قتل پر خاموش بھی نہ رہتے۔بہر حال یہ نیا معاہدہ انہوں نے کیا کہ آئندہ ہم امن سے رہیں گے۔تاریخ میں کسی جگہ بھی مذکور نہیں کہ اس کے بعد یہودیوں نے کبھی کعب بن اشرف کے قتل کا ذکر کر کے مسلمانوں پر الزام عائد کیا ہو کیونکہ ان کے دل محسوس کرتے تھے کہ کعب اپنی مستحق سزا کو پہنچا ہے۔کعب بن اشرف کے قتل پر بعض مغربی مورخین نے بہت کچھ لکھا ہے اور اس قتل کو آنحضرت صلی للی کم کے دامن پر ایک بد نما دھبے کے طور پر ظاہر کر کے اعتراضات جمائے ہیں۔لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اول تو یہ کہ آیا یہ عمل فی ذاتہ ایک جائز فعل تھا یا نہیں؟ دوسرے آیا جو طریق اس کے قتل کے واسطے اختیار کیا