اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 358
اصحاب بدر جلد 5 358 ذہنی دباؤ بھی جو ہے وہ بھی کچھ کم ہو۔بہر حال انہوں نے کہا کہ کوئی ہے جو مجھ سے دوڑ لگائے ؟ کیا کوئی دوڑنے والا ہے ؟ کہتے ہیں انہوں نے کئی دفعہ یہ بار بار دہرایا تو میں نے جب یہ بات سنی تو میں نے دوسرے صحابی کو چھیڑ کے کہا اسے کہ تم کسی معزز کی عزت نہیں کرتے ؟ کسی بزرگ سے نہیں ڈرتے ؟ اس نے کہا نہیں سوائے اس کے کہ رسول اللہ صلی ال یکم ہوں۔آنحضرت صلی الی ایم کے علاوہ مجھے کسی کا خوف نہیں۔تو میں نے کہا یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں۔مجھے اس آدمی سے دوڑ لگانے دیں۔آپ نے فرمایا ٹھیک ہے اگر تم چاہتے ہو تو لگاؤ۔میں نے اس شخص سے کہا کہ چلو۔پھر کہتے ہیں میں نے اپنے پاؤں موڑے اور چھلانگ ماری اور دوڑ پڑا اور میں ایک یا دو گھاٹیاں اس کے پیچھے دوڑا پھر میں اپنی طاقت بچاتا رہا تھا پھر میں آہستگی ہے اس کے پیچھے دوڑا پھر میں تیز ہوا، اسے جالیا۔یہ دوڑ لگتی رہی۔وہ مدینہ کا سب سے تیز دوڑنے والا شخص تھا۔کہتے ہیں اور تیز ہو کے میں نے اسے جاکے پکڑ لیا۔میں نے اسے کندھے کے درمیان مکا مارا۔میں نے کہا اللہ کی قسم ! تو پیچھے رہ گیا۔ایک راوی کہتے ہیں کہ میراخیال ہے انہوں نے کہا کہ میں مدینہ تک اس سے آگے رہا اور پھر ہم صرف تین راتیں ٹھہرے یہاں تک کہ اس کے بعد پھر رسول صلی علیم کے ساتھ خیبر کی طرف نکلے۔1859 وہاں پر ٹھہرے۔پھر خیبر کی طرف چلے گئے۔تاریخ طبری میں اس غزوہ کی بابت کچھ تفصیلات یوں درج ہیں۔حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ سے مروی ہے کہ غزوہ ذی قرد میں دشمن کے پاس سب سے پہلا گھوڑا حضرت مُحرز بن نضله کا پہنچا جو بنو اسد بن خزیمہ میں سے تھے۔حضرت مُخرِز بن نضله و آخرم بھی کہا جاتا تھا۔اسی طرح آپ کو قمت تیر بھی کہا جاتا تھا۔اور جب دشمن کی طرف سے لوٹ مار اور خطرے کے لیے اجتماع کا اعلان ہوا تو حضرت محمود بن مسلمہ کے گھوڑے نے جو ان کے باغ میں بندھا ہوا تھا جب اور گھوڑوں کی ہنہناہٹ کی آواز سنی تو اپنی جگہ اچھل کود کرنے لگا۔یہ ایک عمدہ اور سدھایا ہوا گھوڑا تھا۔تب بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَل کی عورتوں میں سے بعض عورتوں نے بندھے ہوئے گھوڑے کو اس طرح اچھلتے کودتے دیکھا تو حضرت مخرز بن نضله سے کہا اے میر ! کیا آپ طاقت رکھتے ہیں کہ اپنے اس گھوڑے پر سوار ہوں اور یہ گھوڑا جیسا ہے وہ آپ اسے دیکھ ہی رہے ہیں۔پھر آپؐ مسلمانوں اور رسول اللہ صلی علیم سے جاملیں۔آپ نے کہا ہاں ! میں تیار ہوں۔پھر عورتوں نے وہ گھوڑا آپ کو دیا۔آپؐ ، حضرت مخرز “، اس پر سوار ہو کر چل دیے۔انہوں نے اس گھوڑے کی باگ ڈھیلی چھوڑ دی یہاں تک کہ آپ نے اس جماعت کو پالیا جو آنحضرت صلی اللہ نام کے ساتھ جارہی تھی اور ان کے آگے آپ کھڑے ہو گئے۔پھر حضرت مُخرز بن نضلہ نے کہا اے تھوڑی سی جماعت ! ٹھہر وہ یہاں تک کہ دوسرے مہاجر اور انصار جو تمہارے پیچھے ہیں وہ بھی تم سے آملیں۔راوی کہتے ہیں کہ دشمن کے ایک شخص نے آپ پر حملہ کیا اور آپ کو شہید کر دیا۔پھر وہ گھوڑا بے قابو ہو کر بھاگا اور کوئی اس پر قابو نہ پاسکا یہاں تک کہ وہ بَنُو عَبدِ الْأَشْهَل کے محلے میں آکر اسی رسی کے پاس ٹھہر گیا جس سے وہ بندھا ہو ا تھا۔پس مسلمانوں میں اس دن آپ کے