اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 328
اصحاب بدر جلد 5 328 گیا۔نیک فطرت تھے ، بڑے نیک تھے، کہتے ہیں میں واپس آگیا اور میرا جی چاہا کہ میں اپنے کچھ مال سے محروم ہو گیا ہوتا تو مجھے گوارا ہو تا لیکن اس معاملے میں رسول اللہ صلی علیم سے میں نے بات نہ کی ہوتی۔آنحضرت صلی للی کم کی یہ بات سن کر مجھے خیال آیا کہ میں نے یوں ہی آنحضرت صلی علیہ کم کو تکلیف پہنچائی۔اگر میر امال چلا بھی جاتا تو کوئی حرج نہیں تھا لیکن میں یہ بات نہ کرتا۔کہتے ہیں پھر میرے چچانے میرے پاس آ کر کہا کہ بھتیجے تم نے اس معاملے میں اب تک کیا کیا ہے ؟ رسول اللہ صلی علیم نے مجھے جو جواب دیا تھا میں نے انہیں وہ بتا دیا۔وہی جو اب انہیں دے دیا۔اس پر انہوں نے کہا کہ اللہ ہی ہمارا مددگار ہے۔ہماری اس بات چیت کو ہوئے تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا کہ قرآن کریم کی یہ آیات نازل ہوئیں کہ اِنَّا اَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَبَ بالْحَقِّ لِتَحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَيكَ اللهُ وَلَا تَكُنْ لِلْخَابِنِيْنَ خَصِيمًا ( الماء :106) یعنی ہم نے یقینا تیری طرف کتاب کو حق کے ساتھ نازل کیا ہے تاکہ تُو لوگوں کے درمیان اس کے مطابق فیصلہ کرے جو اللہ نے تجھے سمجھایا ہے اور خیانت کرنے والوں کے حق میں بحث کرنے والانہ بن۔خائنین سے مراد یہاں لکھا ہے کہ بنو ابیر ق ہیں اور پھر یہ بھی ہے کہ واسْتَغْفِرِ اللہ کہ اللہ سے مغفرت چاہو۔اِنَّ اللهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا (النساء:107) یعنی یقیناً اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور بڑار حیم ہے، مہربان ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے آگے فرمایا کہ وَلَا تُجَادِلُ عَنِ الَّذِينَ يَخْتَانُونَ أَنْفُسَهُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَانًا أَثِيمًا - يَسْتَخْفُونَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُونَ مِنَ اللهِ وَهُوَ مَعَهُمْ إِذْ يُبَيِّتُونَ مَا لَا يَرْضَى مِنَ الْقَوْلِ وَكَانَ اللهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطًا - هَاَنْتُمْ هَؤُلَاءِ جَدَلْتُمْ عَنْهُمْ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا فَمَنْ يُجَادِلُ اللهَ عَنْهُمْ يَوْمَ الْقِيمَةِ اَم مَنْ يَكُونُ عَلَيْهِمْ وَكَيْلًا - وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمُ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَّحِيمًا - ( النساء: 108-111) اور ان لوگوں کی طرف سے بحث نہ کر جو اپنے نفسوں سے خیانت کرتے ہیں یقینا اللہ سخت خیانت کرنے والے گناہ گار کو پسند نہیں کرتا۔وہ لوگوں سے تو چھپ جاتے ہیں جبکہ اللہ سے نہیں چھپ سکتے اور وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے جب وہ راتیں ایسی باتیں کرتے ہوئے گزارتے ہیں جو وہ پسند نہیں کرتا اور اللہ اسے گھیرے ہوئے ہے جو وہ کرتے ہیں۔دیکھو تم وہ لوگ ہو کہ تم دنیا کی زندگی میں تو ان کے حق میں بخشیں کرتے ہو۔پس قیامت کے دن ان کے حق میں اللہ سے کون بحث کرے گا یا کون ہے جو ان کا حمایتی ہو گا اور جو بھی کوئی بر افعل کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے بخشش طلب کرے وہ اللہ کو بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا پائے گا۔پھر آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَمَنْ يَكْسِبُ اثْمًا فَإِنَّمَا يَكْسِبُهُ عَلَى نَفْسِهِ وَ كَانَ اللهُ عَلِيمًا حَكِيمًا - وَمَنْ يَكْسِبُ خَطِيئَةً أَوْ إِثْمًا ثُمَّ يَرْمِ بِهِ بَرِيئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا۔(النساء :112-113) یعنی جو کوئی گناہ کماتا ہے تو یقینا وہ اسے اپنے ہی خلاف کماتا ہے اور اللہ دائمی علم رکھنے والا اور حکمت والا ہے اور جو کسی خطا کا مر تکب ہو یا گناہ کرے پھر کسی معصوم پر اس کی تہمت لگا دے تو اس نے بہت بڑا بہتان اور کھلا کھلا گناہ کا بوجھ اٹھایا ہے۔کہتے ہیں کہ اس سے اشارہ بنو ابیرق کی اس بات کی طرف ہے جس میں