اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 329
اصحاب بدر جلد 5 329 b انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں لگتا ہے کہ یہ چوری لبید بن سہل نے کی ہے اور پھر آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ولولا فَضْلُ اللهِ عَلَيْكَ وَ رَحْمَتُهُ لَهَمَّتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ اَنْ يُضِلُّوكَ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ وَمَا يَضُرُّونَكَ مِنْ شَيْءٍ وَ اَنْزَلَ اللهُ عَلَيْكَ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَ كَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا لَا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِنْ نَجُوبُهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاح بَيْنَ النَّاسِ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا - (انسان 114-115) اور اگر تجھ پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتے تو ان میں سے ایک گروہ نے تو ارادہ کر رکھا تھا کہ وہ ضرور تجھے گمراہ کر دیں گے لیکن وہ اپنے سوا کسی کو گمراہ نہیں کر سکتے اور وہ تجھے ہر گز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے اور اللہ نے تجھ پر کتاب اور حکمت اتارے ہیں اور تجھے وہ کچھ سکھایا ہے جو تو نہیں جانتا تھا اور تجھ پر اللہ کا فضل بہت بڑا ہے۔ان کے اکثر خفیہ مشوروں میں کوئی بھلائی کی بات نہیں سوائے اس کے کہ کوئی صدقہ یا معروف کی یالوگوں کے درمیان اصلاح کی تلقین کرے۔اور جو بھی اللہ کی رضا حاصل کرنے کی خواہش میں ایسا کرتا ہے تو ضرور ہم اسے ایک بڑا اجر عطا کرتے ہیں۔بہر حال ان آیات کے اور بھی بڑے مطالب ہیں لیکن اگر اس کے بارے میں بھی لیا جائے تو کچھ عرصے بعد ان کو یہی خیال ہوا کہ ہمارے اس معاملے میں یہ ساری آیات نازل ہوئی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی علی علم پر حقیقت کھول دی اور پھر اس کا اثر یہ بھی ہوا کہ جب یہ آیات نازل ہوئیں تو بنو ابیر ق، جن پہ چوری کا شبہ تھا انہوں نے سمجھا کہ یہ ہمارے بارے میں ہی ہے تو انہوں نے اپنی وہ چوری تسلیم کر لی اور ہتھیار رسول اللہ صلی ال نیم کے پاس لے آئے اور پھر آپ صلی الم نے وہ ہتھیار رفاعہ کو جو مالک تھے ان کو لوٹا دیے۔حضرت قتادہ کہتے ہیں کہ میرے چچا بوڑھے تھے اور اسلام لانے سے پہلے زمانہ جاہلیت میں ان کی نگاہیں کمزور ہو چکی تھیں اور میں سمجھتا تھا کہ ان کے ایمان میں کچھ خلل ہے۔یہ سمجھتا تھا کہ ایمان تو یہ لے آئے ہیں، مسلمان ہو گئے ہیں لیکن ایمان مضبوط نہیں ہے۔لیکن جب یہ ہتھیار ان لوگوں کی طرف سے واپس ہوئے جنہوں نے یہ چرائے تھے اور جب میں ہتھیار لے کے اپنے چچا کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ اے میرے بھتیجے ! اسے میں اللہ کی راہ میں صدقہ میں دیتا ہوں تو اس وقت مجھے پتالگ گیا اور میں نے یقین کر لیا کہ چچا کا اسلام پختہ اور درست تھا اور مجھے یوں ہی ان پہ شک تھا کہ ان کا ایمان مضبوط نہیں۔جب قرآن کریم کی یہ آیات نازل ہوئیں تو بشیر جو ان میں سے ایک بھائی تھا جس کے بارے میں انہوں نے پہلے کہا کہ اس پر ان کو منافقت کا شک تھا وہ جا کے مشرکوں میں شامل ہو گیا اور سُلافہ بنتِ سعد کے پاس جا ٹھہرا۔اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل کی : وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيرًا إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلِّلًا بَعِيدًا (النساء: 117،116)