اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 287
اصحاب بدر جلد 5 287 میں سے بھی کئی لوگوں نے اسلام کی شاندار خدمات سر انجام دیں۔چنانچہ دیکھ لو حضرت علی چوٹی کے خاندان میں سے تھے۔حضرت حمزہ چوٹی کے خاندان میں سے تھے۔حضرت عمرؓ چوٹی کے خاندان میں سے تھے۔حضرت عثمان چوٹی کے خاندان میں سے تھے۔اس کے بالمقابل حضرت زید اور حضرت بلال اور سمرۃ اور خباب ، صہیب اور عامر اور عمارا بوفگیکہ یہ چھوٹے سمجھے جانے والوں میں سے تھے۔گویا بڑے لوگوں میں سے بھی قرآن کریم کے خادم چنے گئے اور چھوٹے لوگوں میں سے بھی قرآن کریم کے خادم چنے گئے۔16 جانثار ماں بیٹا جنہیں خدا کی راہ میں بہت تکالیف دی گئیں 646 64711 648 آپ نے ایک جگہ فرمایا کہ : " حضرت سمیہ ایک لونڈی تھیں۔ابو جہل ان کو سخت دکھ دیا کرتا تھا تاکہ وہ ایمان چھوڑ دیں لیکن جب ان کے پائے ثبات میں لغزش پیدا نہ ہوئی " ان کے ایمان کو کوئی ہلانہ سکا تو ایک دن ناراض ہو کر ابو جہل نے ان کی شرمگاہ میں نیزہ مارا اور انہیں شہید کر دیا۔حضرت عمار جو شمیہ کے بیٹے تھے انہیں بھی تپتی ریت پر لٹایا جاتا اور انہیں سخت دکھ دیا جاتا۔" عروہ بن زبیر یہ روایت کرتے ہیں تاریخ میں لکھا ہے کہ حضرت عمار بن یاسر مکہ میں ان کمزور لوگوں میں سے تھے جنہیں اس لئے تکلیف دی جاتی تھی کہ وہ اپنے دین سے پھر جائیں۔محمد بن عمر کہتے ہیں کہ مُسْتَضْعَفِین یعنی کمزور لوگ جو تھے ، قرآن کریم میں جن کمزوروں اور بے بس لوگوں کا ذکر آیا ہے، یہ وہ لوگ تھے جن کے مکہ میں قبائل نہ تھے اور نہ ان کا کوئی محافظ تھا نہ انہیں کوئی قوت تھی۔قریش ان لوگوں پر دو پہر کی تیز گرمی میں تشدد کرتے تھے تاکہ وہ اپنے دین سے پھر جائیں۔48 اسی طرح عمر بن الحکم کہتے ہیں کہ حضرت عمار بن یاسر ، حضرت صہیب، حضرت ابوفکیه " پر اتنا ظلم کیا جاتا تھا کہ ان کی زبان سے وہ باتیں جاری ہو جاتی تھیں جن کو وہ حق نہیں سمجھتے تھے لیکن دشمن ظلم کر کے ان کے منہ سے وہ باتیں نکلوا لیتے تھے۔9 اسی طرح روایت میں ہے محمد بن کعب قرظی بیان کرتے ہیں کہ مجھے ایک شخص نے بتایا کہ اس نے حضرت عمار بن یاسر کو ایک پاجامہ پہنے ہوئے دیکھا تھا۔اس نے کہا کہ میں نے حضرت عمار کی پشت پر ورم اور زخموں کے نشان دیکھے۔میں نے کہا یہ کیا ہے ؟ تو حضرت عمار نے بتایا کہ یہ اس ایڈا کے نشان ہیں جو قریش مکہ دو پہر کی سخت دھوپ میں مجھے دیتے تھے۔650 عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں کہ مشرکین نے حضرت عمار کو آگ سے جلایا۔رسول اللہ صلی الی یوم حضرت عمار کے پاس سے گزرے تو ان کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے فرمایا يُنَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَمًا عَلَى عمار كَمَا كُنْتِ عَلَى إِبْرَاهِيم - اے آگ تو ابراہیم کی طرح عمار پر بھی ٹھنڈک اور سلامتی والی ہو جا۔651 اے آل عمار ! خوش ہو جاؤ یقینا تمہارے لئے جنت کا وعدہ ہے 649 پھر روایت میں آتا ہے حضرت عثمان بن عفان بیان کرتے ہیں کہ میں اور رسول اللہ صلی ال ولیم مکہ کی