اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 284 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 284

اصحاب بدر جلد 5 284 حضرت عکاشہ نے عرض کی یارسول اللہ صلی ال مہ جب آپ نے مجھے مارا تھا تو اس وقت میرے پیٹ پر کپڑا نہیں تھا۔اس پر آپ صلی للی یکم نے اپنے پیٹ پر سے کپڑا اٹھایا۔اس پر مسلمان دیوانہ وار رونے لگ گئے اور کہنے لگے کیا عکاشہ واقعی رسول اللہ صلی علی ایم کو مارے گا ؟ مگر جب حضرت عُکاشہ نے آپ صلی ا یکم کے بدن کی سفیدی دیکھی تو دیوانہ وار لپک کر آگے بڑھے اور آپ کے بدن کو چومنے لگے اور عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس کا دل گوارا کر سکتا ہے کہ وہ آپ سے بدلہ لے۔اس پر آپ صلی علی کرم نے فرمایا: یا بدلہ لینا ہے یا معاف کرنا ہے۔اس پر حضرت عُکاشہ نے عرض کی یارسول اللہ ! میں نے معاف کیا اس امید پر کہ اللہ قیامت کے دن مجھے معاف فرمادے۔اس صلى الل ولم نے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ جو جنت میں میر اساتھی دیکھنا چاہتا ہے وہ اس بوڑھے می گو دیکھ لے۔پس مسلمان اٹھے اور حضرت عُکاشہ کا ماتھا چومنے لگے اور ان کو مبارکباد دینے لگے کہ تو نے بہت بلند مقام اور نبی صلی علیکم کی رفاقت کو پالیا۔7 یہ تھے حضرت عکاشہ کہ انہوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھا کر کہ آنحضرت صلی اللہ ہم تو اپنی واپسی کی خبریں سنا رہے ہیں اور اب پتہ نہیں کبھی موقع ملتا ہے کہ نہیں ملتا۔انہوں نے کہا کہ زندگی میں یہ موقع ہے کہ آپ کے جسم کو نہ صرف چوموں بلکہ بوسہ دوں۔637 حضرت عکاشہ کی شہادت حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ کی خلافت میں حضرت خالد بن ولید کے ساتھ حضرت عُکاشه مرتدین کی سرکوبی کے لئے روانہ ہوئے۔عیسیٰ بن عمیلہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید لوگوں کے مقابلے پر روانہ ہوتے وقت اگر اذان سنتے تو حملہ نہ کرتے اور اگر اذان نہ سنتے تو حملہ کر دیتے۔جب آپ رضی اللہ عنہ اس قوم کی طرف پہنچے جو برائہ مقام پر تھی تو آپ نے حضرت عُکاشہ بن محصن اور حضرت ثابت بن اقرم کو مخبر بنا کر بھیجا کہ دشمن کی خبر لائیں۔وہ دونوں گھوڑوں پر سوار تھے۔حضرت عکاشہ کے گھوڑے کا نام الرزام تھا اور حضرت ثابت کے گھوڑے کا نام المحبر۔ان دونوں کا سامنا طلیحہ اور اس کے بھائی سلمہ سے ہوا جو مسلمانوں کی مخبری کرنے کے لئے لشکر سے آگے آئے ہوئے تھے۔طلیحہ کا سامنا حضرت عکاشہ سے ہوا اور سلمہ کا سامنا حضرت ثابت سے ہوا اور ان دونوں بھائیوں نے ان دونوں اصحاب کو شہید کر دیا۔ابو واقد اللیثی بیان کرتے ہیں کہ ہم دو سو سوار ار لشکر کے آگے آگے چلنے والے تھے ہم ان مقتولوں، حضرت ثابت اور حضرت عکاشہ کے پاس کھڑے رہے یہانتک کہ حضرت خالد آئے اور ان کے حکم سے ہم نے حضرت ثابت اور حضرت عکاشہ کو ان کے خون آلود کپڑوں میں ہی دفن کر دیا۔یہ واقعہ 12 ہجری کا ہے۔اس طرح ان کی شہادت ہوئی۔638 ان کا نام عکاشہ تھا۔مخصن بن حرثمان ولدیت تھی۔ابو محصن ان کی کنیت تھی۔حضرت ابو بکر