اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 276
اصحاب بدر جلد 5 276 مصائب کے ان تند طوفانوں میں آپ کا سر اور بھی بلند ہوتا جاتا تھا۔یہ نظارہ اگر ایک طرف قریش مکہ کو حیران کر تا تھا تو دوسری طرف ان کے دلوں پر کبھی کبھی لرزہ بھی ڈال دیتا تھا۔ان ایام کے متعلق سرولیم میور نے بھی لکھا ہے کہ: ان ایام میں محمد صلی علی کم اپنی قوم کے سامنے اس طرح سینہ سپر تھا کہ انہیں بعض اوقات حرکت کی تاب نہیں ہوتی تھی۔اپنی بالآخر فتح کے یقین سے معمور مگر بظاہر بے بس اور بے یار و مددگار وہ اور اس کا چھوٹا سا گروہ یعنی آنحضرت صلی ا ظلم اور آپ کا چھوٹا سا گروہ چند مسلمان اس زمانہ میں گویا ایک شیر کے منہ میں تھے۔مگر اس خدا کی نصرت کے وعدوں پر کامل اعتماد رکھتے ہوئے جس نے اسے رسول بنا کر بھیجا تھا محمد صلی علیہ کی ایک ایسے عزم کے ساتھ اپنی جگہ پر کھڑا تھا، ولیم میور لکھتا ہے، کہ جسے کوئی چیز اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتی تھی۔یہ نظارہ ایک ایسا شاندار منظر پیش کرتا ہے جس کی مثال سوائے اسرائیل کی اس حالت کے اور کہیں نظر نہیں آتی کہ جب اس نے مصائب و آلام میں گھر کر خدا کے سامنے یہ الفاظ کہے تھے کہ اے میرے آقا ! اب تو میں ہاں صرف میں ہی اکیلا رہ گیا ہوں۔پھر لکھتا ہے کہ نہیں بلکہ محمد صلی این کم کا یہ نظارہ اسرائیلی نبیوں سے بھی ایک رنگ میں بڑھ کر تھا۔محمد صلی علیم کے یہ الفاظ اسی موقعہ پر کہے گئے تھے کہ اے میری قوم کے صنادید ! تم نے جو کچھ کرنا ہے کر لو۔میں بھی کسی امید پر کھڑ ا ہوں۔مدینہ میں امید کی کرن بہر حال اسلام کے لئے یہ ایک بہت نازک موقع تھا۔مکہ والوں کی طرف سے تو مکمل طور پر ایک ناامیدی ہو چکی تھی مگر مدینہ میں یہ جو بیعت کر کے گئے تھے ان کی وجہ سے بھی امید کی کرن پیدا ہو رہی تھی۔اور آنحضرت صلی اللہ کی بڑی توجہ کے ساتھ اس طرف نظر ، نگاہ لگائے ہوئے تھے کہ آیا مدینہ بھی مکہ اور طائف کی طرح آپ کو رڈ کرتا ہے یا اس کی قسمت دوسرے رنگ میں لکھی ہے۔چنانچہ جب حج کا موقع آیا تو آپ بڑے شوق کے ساتھ اپنے گھر سے نکلے اور منی کی جانب عقبہ کے پاس پہنچ کر ادھر ادھر نظر دوڑائی تو آپ کی نظر اچانک اہل یثرب کی ایک چھوٹی سی جماعت پر پڑی جنہوں نے آپ کو دیکھ کر فورا پہچان لیا اور نہایت محبت اور اخلاص سے آگے بڑھ کر آپ کو ملے۔اس دفعہ یہ بارہ اشخاص تھے جن میں سے پانچ تو وہی گزشتہ سال کے مصدقین تھے اور سات نئے تھے اور اوس اور خزرج دونوں قبیلوں میں سے تھے۔ان کے نام یہ ہیں: 1 - أبو أمامه اسعد بن زراره - 2۔عوف بن حارث۔3۔رافع بن مالک۔4۔قطبه بن عامر - 5 - عُقبہ بن عامر - عُقبہ بن عامر جن کی سیرت بیان ہو رہی ہے یہ اس دفعہ بھی دوبارہ حج کے لئے آئے۔6۔معاذ بن حارث۔یہ قبیلہ بنی نجار سے تھے اور 7۔ذکوان بن عَبدِ قَيْس قبیلہ بنو زُریق سے تھے۔8۔ابو عبد الرحمن یزید بن ثَعْلَبه از بَنِی بَلی اور 9۔عُبادہ بن صامت از بني عوف۔وہ خزرج قبیلہ کے بینی بلی سے تھے اور یہ بني عوف سے تھے۔10۔عباس بن عُبادہ بن نَضْلہ۔یہ بنی سالم میں سے تھے۔11۔ابو الْهَيْثَم بن تیہان یہ بنی عبدِ الْأَشْهَلْ کے تھے اور