اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 271
اصحاب بدر جلد 5 271 کپڑوں میں لپیٹ دیا۔نبی صلی اللہ کی ہمارے ہاں تشریف لائے۔میں نے کہا اے ابو سائب ! اللہ کی رحمت آپ پر ہو۔یہ میری آپ پر گواہی ہے کہ اللہ نے آپ کا اکرام کیا ہے، بہت عزت احترام کیا ہے تو رسول للہ صلی علیم نے فرمایا تمہیں کیا پتا کہ اللہ تعالی نے اس کا اکرام کیا ہے ؟ کہتی ہیں مجھے نہیں پتا میرے ماں باپ آپ پر قربان۔رسول اللہ صلی الیکم نے فرمایاں جہاں تک اس کا تعلق ہے اس کو وہ یقینی بلاوا یعنی موت اس کے رب کی طرف سے آگیا ہے اور میں اس کے لیے خیر کی امید رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ خیر کا معاملہ کرے گا لیکن اللہ کی قسم! میں بھی نہیں جانتا، میں اللہ کار سول ہوں کہ میرے ساتھ کیا کیا جائے گا۔وہ کہتی ہیں کہ میں نے کہا میں اس کے بعد کسی کو پاک قرار نہیں دوں گی لیکن اس کے بعد اس بات نے مجھے غمگین کیا پھر اسی خواب کا ذکر کیا۔پھر آنحضرت صلی الیم کو خواب سنائی۔612 تو پہلی دو مختلف کتابوں میں، حدیثوں میں اس واقعے کو لکھا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کے درجات تو بلند کیے ہی ہیں آنحضرت صلیلی کیم کی دعائیں بھی تھیں اور ہمیشہ بلند فرماتا چلا جائے اور وہ نیک نمونے ہم لوگ بھی اپنے اندر قائم کرنے والے ہوں۔13 233 نام و نسب حضرت عدی بن ابی الزغباء حضرت عدی بن آبی رغباء انصاری۔ان کی ولدیت سینان بن سبیع تھی۔آپ نے حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں وفات پائی۔حضرت علی کے والد ابی زغباء کا نام سنان بن سُبَيع بن تغلبہ تھا۔آپ کا تعلق انصار کے قبیلہ جھینہ سے تھا۔غزوہ بدر اور احد اور خندق سمیت تمام غزوات میں رسول اللہ صلی علیہ وسلم کے ساتھ شامل تھے۔614 غزوہ بدر کے موقعہ پر معلومات لانے والے رسول اللہ صلی الم نے آپ کو حضرت بشبش بن عمرو کے ساتھ معلومات لانے کی غرض سے غزوہ بدر کے موقع پر ابوسفیان کے قافلے کی طرف بھیجا تھا۔یہ خبر لینے گئے یہاں تک چلتے گئے کہ سمندر کے ساحل کے قریب پہنچ گئے۔حضرت بشبش بن عمرو اور حضرت عدی بن ابی زَغْبَاء نے بدر کے مقام پر ایک ٹیلے کے پاس اپنے اونٹ بٹھائے جو ایک گھاٹ کے قریب تھا۔پھر انہوں نے اپنی مشکیں