اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 12
اصحاب بدر جلد 5 12 والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں حضرت عمرؓ کے ساتھ چلا یہاں تک کہ وہ حضرت صہیب کے ایک باغ میں داخل ہوئے جو عالیہ مقام میں تھا۔حضرت صہیب نے جب حضرت عمر کو دیکھا تو کہا یاش یناش حضرت عمر کو لگا کہ الناس کہہ رہے ہیں تو حضرت عمرؓ نے کہا اسے کیا ہوا ہے ؟ یہ لوگوں کو کیوں بلا رہا ہے ؟ راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ وہ اپنے غلام کو بلا رہے ہیں جس کا نام محنش ہے۔زبان میں گرہ کی وجہ سے وہ اسے ایسا کہہ رہے ہیں۔اس کے بعد پھر وہاں باتیں ہوئیں تو حضرت عمرؓ نے کہا کہ اے صہیب ! تین باتوں کے علاوہ میں تم میں کوئی عیب نہیں دیکھتا۔اگر وہ تم میں نہ ہو تیں تو میں تم پر کسی کو فضیلت نہ دیتا۔میں دیکھتا ہوں کہ تم اپنے آپ کو عرب کی طرف منسوب کرتے ہو جبکہ تمہاری زبان عجمی ہے۔اور تم اپنی کنیت ابو بی بتاتے ہو جو ایک نبی کا نام ہے۔اور تم اپنا مال فضول خرچ کرتے ہو۔حضرت صہیب نے جواب میں کہا جہاں تک میرے مال فضول خرچ کرنے کا تعلق ہے تو میں اسے وہیں خرچ کرتا ہوں جہاں خرچ کرنے کا حق ہوتا ہے۔فضول نہیں کرتا۔جہاں تک میری کنیت کا تعلق ہے تو وہ آنحضور صلی علیم نے ابو بیٹی رکھی تھی اور میں اس کو ہر گز ترک نہیں کروں گا۔اور جہاں تک میرے عرب کی طرف منسوب ہونے کا تعلق ہے تو رومیوں نے مجھے کم سنی میں قیدی بنالیا تھا اس لیے ہے میں نے ان کی زبان سیکھ لی۔میں قبیلہ تمیز بن قاسط سے تعلق رکھتا ہوں۔حضرت عمر زخمی ہوئے تو آپ نے وصیت کی کہ میری نماز جنازہ صہیب پڑھائیں حضرت عمر حضرت صہیب سے بہت محبت کرتے تھے اور ان کے بارے میں اعلیٰ گمان رکھتے تھے یہاں تک کہ جب حضرت عمر زخمی ہوئے تو آپ نے وصیت کی کہ میری نماز جنازہ صہیب پڑھائیں گے اور تین روز تک مسلمانوں کی امامت کروائیں گے یہاں تک کہ اہل شوریٰ اُس پر متفق ہو جائیں جس نے خلیفہ بننا ہے۔وفات حضرت صہیب کی وفات ماہ شوال 138 ہجری میں ہوئی، بعض کے مطابق 139 ہجری میں وفات ہوئی۔وفات کے وقت حضرت صہیب کی عمر تہتر برس تھی، بعض روایات کے مطابق ستر برس تھی۔آپ مدینہ میں دفن ہوئے۔48