اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 11 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 11

اصحاب بدر جلد 5 میں حاضر ہوئے۔آپ نے فرمایا نہیں ! تمہارا یہ سود اسب پہلے سودوں سے نفع مند رہا۔یعنی پہلے اسباب کے مقابلہ میں تم روپیہ حاصل کیا کرتے تھے مگر اب روپیہ کے مقابلہ میں تم نے ایمان حاصل کر لیا۔43 مواخات آنحضرت صلی اللہ کریم نے حضرت صہیب کے مکہ سے مدینہ ہجرت کرنے کے بعد ان کے اور حضرت حارث بن حیمہ کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔حضرت صہیب غزوہ بدر، احد، خندق اور باقی تمام غزوات میں رسول اللہ صلی علیم کے ساتھ شریک ہوئے۔4 اے ابو بکر شاید تم نے انہیں غصہ دلا دیا ہے! 44 رض حضرت عائذ بن عمرو سے روایت ہے کہ حضرت سلمان، حضرت صهیب اور حضرت بلال لوگوں میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس سے ابو سفیان بن حرب کا گزر ہوا۔لوگوں نے کہا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی تلواریں ابھی اللہ کے دشمن کی گردن پر نہیں چلیں۔اس پر حضرت ابو بکر نے کہا کیا تم قریش کے سر کردہ اور سردار کے بارے میں ایسا کہتے ہو ؟ یہ بات نبی کریم صلی علیم کو بتائی گئی تو آپ صلی علیکم نے فرمایا اے ابو بکر شاید تم نے انہیں غصہ دلا دیا ہے۔اگر تم نے انہیں غصہ دلایا ہے تو تم نے اپنے رب تبارک و تعالیٰ کو غصہ دلایا ہے۔پس حضرت ابو بکران لوگوں کے پاس واپس گئے اور کہا کہ اے ہمارے بھائیو ! شاید تم ناراض ہو گئے ہو۔انہوں نے کہا نہیں اے ابو بکر ! اللہ آپ سے مغفرت فرمائے۔45 ہر غزوہ میں شامل حضرت صہیب بیان کرتے ہیں کہ جس معرکے میں رسول اللہ صلی علیکم شریک ہوئے میں اس میں موجود تھا۔آپ صلی یکم نے جو بھی بیعت لی میں اس میں موجود تھا۔آپ صلی علیکم نے جو بھی سر یہ روانہ فرمایا میں اس میں شامل تھا اور آپ جس غزوے کے لیے بھی روانہ ہوئے میں آپ صلی الی نام کے ساتھ شامل تھا۔میں آپ کے دائیں طرف ہو تا یا بائیں طرف۔لوگ جب سامنے سے خطرہ محسوس کرتے تو میں لوگوں کے آئے ہو تا۔جب لوگ پیچھے سے خطرہ محسوس کرتے تو میں ان کے پیچھے ہو تا۔اور میں نے کبھی رسول اللہ صلی الیکم کو دشمنوں کے اور اپنے درمیان نہیں ہونے دیا یہاں تک کہ آپ کی وفات ہو گئی یعنی آپ صلی اللی کم کی وفات ہوئی۔46 حضرت صہیب بڑھاپے میں لوگوں کو جمع کر کے نہایت لطف کے ساتھ اپنے جنگی کار ناموں کے دلچسپ واقعات سنایا کرتے تھے۔47 حضرت عمر کی حضرت صہیب سے محبت حضرت صہیب کی زبان میں عجمیت تھی یعنی عربوں والی فصاحت نہیں تھی۔زید بن اسلم ا۔