اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 258
اصحاب بدر جلد 5 رض 258 حضرت عثمان بن عفان اور ان کی زوجہ رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، عبد الرحمن بن عوف، زبیر ابن العوام، ابو حذیفہ بن عتبہ، عثمان بن مظعون، مصعب بن عمیر اور ابو سلمہ بن عبد الاسد اور ان کی زوجہ امِ سلمہ۔اب یہ لکھتے ہیں کہ یہ ایک عجیب بات ہے کہ ان ابتدائی مہاجرین میں زیادہ تعداد ان لوگوں کی تھی جو قریش کے طاقت ور قبائل سے تعلق رکھتے تھے اور کمزور لوگ کم نظر آتے ہیں جن سے دو باتوں کا پتا چلتا ہے کہ اول یہ کہ طاقتور قبائل سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی قریش کے مظالم سے محفوظ نہیں تھے۔دوسرے یہ کہ کمزور لوگ مثلاً غلام وغیرہ اس وقت ایسی کمزوری اور بے بسی کی حالت میں تھے کہ ہجرت کی بھی طاقت نہیں رکھتے تھے۔588 ہجرت کرنے والوں کو دیکھ کر غم کی وجہ سے حضرت عمرہ پر رقت طاری ہونا حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے انداز میں اس واقعے کو اس طرح بیان فرمایا ہے۔آپ حضرت عثمان بن مطعون کی مکہ میں پناہ اور پھر لبید بن ربیعہ والے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔یہ پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ آپ نے ولید کی امان واپس کر دی تھی۔اب لکھتے ہیں کہ جب مکہ والوں کا ظلم انتہا کو پہنچ گیا تو محمد رسول اللہ صلی الم نے ایک دن اپنے ساتھیوں کو بلوایا اور فرمایا۔مغرب کی طرف سمندر پار ایک زمین ہے جہاں خدا کی عبادت کی وجہ سے ظلم نہیں کیا جاتا۔مذہب کی تبدیلی کی وجہ سے لوگوں کو قتل نہیں کیا جاتا۔وہاں ایک منصف بادشاہ ہے۔تم لوگ ہجرت کر کے وہاں چلے جاؤ شاید تمہارے لیے آسانی کی راہ پیدا ہو جائے۔کچھ مسلمان مرد اور عور تیں اور بچے آپ کے اس ارشاد پر ایسے سینیا کی طرف چلے گئے۔ان لوگوں کا مکے سے نکلنا کوئی معمولی بات نہیں تھی۔یہاں یہ بڑا جذباتی پہلو ہے کہ اپنے ملک کو چھوڑنا یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی۔مکے کے لوگ اپنے آپ کو خانہ کعبہ کا متولی سمجھتے تھے اور مکہ سے باہر چلے جانا ان کے لیے ایک نا قابل برداشت صدمہ تھا۔وہی شخص یہ بات کہہ سکتا تھا جس کے لیے دنیا میں کوئی اور ٹھکانہ باقی نہ رہے کہ مکہ سے نکل جاؤں۔پس ان لوگوں کا نکلنا ایک نہایت ہی دردناک واقعہ تھا اور پھر نکلنا بھی ان لو گوں کو چوری چوری پڑا۔چھپ کے نکلنا پڑا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر مکہ والوں کو معلوم ہو گیا تو وہ ہمیں نکلنے نہیں دیں گے اور اس وجہ سے وہ اپنے عزیزوں اور پیاروں کی آخری ملاقات سے بھی محروم جارہے تھے۔ان کو یہ بھی موقع نہیں ملا کہ وہ عزیزوں اور پیاروں سے ملاقات کر کے جائیں، چھپ کے نکلے تھے۔ان کے دلوں کی جو حالت تھی سو تھی۔ان کے دیکھنے والے بھی ان کی تکلیف سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے۔وہ غیر جن کو پتا لگا کہ اس طرح ہجرت کر رہے ہیں وہ بھی ان کی اس حالت سے متاثر ہو رہے تھے۔چنانچہ جس وقت یہ قافلہ نکل رہا تھا حضرت عمرؓ جو اس وقت تک کافر اور اسلام کے شدید دشمن تھے اور مسلمانوں کو تکلیف دینے والوں میں چوٹی کے آدمی تھے اتفاقاً اس قافلے کے افراد کو مل گئے۔ان میں ایک صحابیہ اتم عبد اللہ نامی بھی تھیں۔بندھے ہوئے سامان اور تیار سواریوں کو جب آپ