اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 10
اصحاب بدر جلد 5 10 ایک روایت میں ہے کہ حضرت صہیب مکہ سے ہجرت کر کے آنحضرت صلی ا کرم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔اس وقت آپ قبا میں تھے۔آپ کے ساتھ حضرت ابو بکر اور حضرت عمرؓ بھی تھے۔یعنی اس وقت آنحضرت علی ایم کے پاس حضرت ابو بکر اور عمرؓ بھی تھے۔اس وقت ان سب کے سامنے تازہ کھجوریں تھیں جو حضرت کلثوم بن ھذه لائے تھے۔راستے میں حضرت صہیب مو آشوب چشم ہو گیا تھا، آنکھوں کی تکلیف ہو گئی تھی اور انہیں سخت بھوک لگی ہوئی تھی۔سفر کی وجہ سے تھکان بھی تھی۔حضرت صہیب کھجوریں کھانے کے لیے لیکے تو حضرت عمرؓ نے کہا یارسول اللہ صہیب کی طرف دیکھیں اسے آشوب چشم ہے اور وہ کھجور میں کھا رہا ہے۔آنحضرت صلی الی یکم نے مذاقا فرمایا کہ تم کھجور کھا رہے ہو جبکہ تمہیں اُشوب چشم ہے۔آنکھیں سوجی ہوئی ہیں، بہ رہی ہیں۔حضرت صہیب نے عرض کیا میں اپنی الله سة آنکھ کے اس حصہ سے کھا رہا ہوں جو ٹھیک ہے۔اس پر رسول اللہ صلی علی کل مسکر دیے۔پھر حضرت صہیب نے حضرت ابو بکر سے کہا کہ آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ ہجرت میں مجھے ساتھ لے کر جائیں گے مگر آپ چلے آئے اور مجھے چھوڑ دیا۔پھر انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے مجھے ساتھ لے کر جانے کا وعدہ کیا تھا تا ہم آپ بھی تشریف لے آئے اور مجھے چھوڑ آئے۔قریش نے مجھے پکڑ لیا اور مجھے محبوس کر دیا اور میں نے اپنی جان اور اپنے گھر والوں کو اپنے مال کے عوض خریدا۔رسول اللہ صلی علی کریم نے فرمایا سودا نفع مند ہے۔اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِكْ نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللهِ وَاللهُ رَسُوفَ بِالْعِبَادِ (البقرة :208) اور لوگوں میں سے ایسا بھی ہے جو اپنی جان اللہ کی رضا کے حصول کے لیے بیچ ڈالتا ہے اور اللہ بندوں کے حق میں بہت مہربانی کرنے والا ہے۔حضرت صہیب نے عرض کیا یار سول اللہ ! میں نے ایک مُد، تقریباً آدھا کلو آٹا زادِ راہ کے طور پر لیا تھا۔اسے میں نے ابواء مقام پر گوندھا تھا یہاں تک کہ میں آپ صلی علیکم کی خدمت میں حاضر ہو گیا۔42 اتا میں اس سفر میں صرف اتنا کھایا۔یہی خوراک تھی۔حضرت مصلح موعود ان کے بارے میں بیان فرماتے ہیں کہ صہیب ایک مالدار آدمی تھے۔یہ تجارت کرتے تھے اور مکہ کے باحیثیت آدمیوں میں سمجھے جاتے تھے۔مگر باوجود اس کے کہ وہ مالدار بھی تھے اور آزاد بھی ہو چکے تھے۔“ اب تو غلام نہیں رہے تھے ” قریش ان کو مار مار کر بیہوش کر دیتے تھے۔جب رسول اللہ صلی علیکم مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے تو آپ کے بعد صہیب نے بھی چاہا کہ وہ بھی ہجرت کر کے مدینہ چلے جائیں مگر مکہ کے لوگوں نے ان کو روکا اور کہا کہ جو دولت تم نے مکہ میں کمائی ہے تم اسے مکہ سے باہر کس طرح لے جاسکتے ہو ؟ ہم تمہیں مکہ سے جانے نہیں دیں گے۔صہیب نے کہا اگر میں یہ سب کی سب دولت چھوڑ دوں تو کیا پھر تم مجھے جانے دو گے ؟ وہ اس بات پر رضامند ہو گئے اور آپ اپنی ساری دولت مکہ والوں کے سپر د کر کے خالی ہاتھ مدینہ چلے گئے اور رسول اللہ صلی للی کم کی خدمت