اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 224
اصحاب بدر جلد 5 224 حدیث سنائی اور جب ان الفاظ پر پہنچے کہ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ۔۔۔کہ میں نے خدا کے رسول سے سنا تو مارے خوف اور خشیت سے آپ کے بدن پر ایک لرزہ طاری ہو گیا۔یہانتک کہ آپ کے لباس سے بھی جنبش محسوس ہونے لگی۔اس کے بعد احتیاط کی خاطر یہ بھی فرمایا کہ شاید حضور صلی میڈم نے یہ الفاظ فرمائے تھے یا اس سے ملتے جلتے الفاظ۔حدیث بیان کرتے وقت آپ کمال درجہ احتیاط برتتے تھے۔یہ اس وعید اور گرفت کی وجہ سے معلوم ہوتی ہے جس کے بارے میں نبی کریم صلی علیم نے فرمایا ہے کہ غلط احادیث بیان 519 ایک اور روایت سے بھی اس احتیاط کا اندازہ ہوتا ہے۔عمرو بن میمون بیان کرتے ہیں کہ میں ایک سال تک حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے پاس آتا جاتا رہا۔وہ حدیث بیان کرنے میں بہت احتیاط سے کام لیتے۔ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ قَالَ رَسُولُ الله صلی علیہ علم یعنی اللہ کے رسول نے فرمایا کے الفاظ کہہ کر آپ پر ایک عجیب کرب کی کیفیت طاری ہو گئی اور پیشانی سے پسینہ گرنے لگا پھر فرمانے لگے کہ اسی قسم کے الفاظ اور اس سے ملتے جلتے الفاظ حضور صلی الم نے فرمائے تھے۔9 آپ کی خدا خوفی کا یہ عالم تھا کہ فرمایا کرتے تھے کہ میں چاہتا ہوں کہ مرنے کے بعد اٹھایا نہ جاؤں اور حساب کتاب سے بچ جاؤں۔حضرت عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ حضرت عبد اللہ بن مسعود بیمار ہوئے تو سخت خوفزدہ ہو گئے۔ہم نے پوچھا کہ آپ کو کبھی کسی بیماری میں اتنا پریشان نہیں دیکھا جتنا اس میں ہیں۔فرمانے لگے یہ بیماری مجھے اچانک آلگی ہے۔میں ابھی خود کو آخرت کے سفر کے لئے تیار نہیں پاتا اس لئے پریشان ہوں۔آپ نے اپنی موت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ دن میرے لئے آسان نہیں ہو گا۔میں چاہتا ہوں کہ جب مروں تو اٹھایا نہ جاؤں۔ابن مسعود سے مروی ہے کہ آپ نے یہ وصیت کی اور اس وصیت میں بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھا۔20 اب بسم الله الرحمن الرحیم آجکل ہر ایک لکھتا ہے تو یہ خاص طور پر جو اس کا یہاں ذکر ہوا اس لئے کہ ان کو حقیقی ادراک تھا، اللہ تعالیٰ کے رحمن اور رحیم ہونے کا ادراک تھا اس لئے اللہ تعالیٰ کی صفات کا واسطہ دے کر یہ بات شروع کی، اللہ تعالیٰ کے نام سے شروع کی تاکہ اس وصیت میں کوئی بھی ایسی بات ہو جو اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں آسکتی ہو تو رحمان اور رحیم خدا اس سے بچائے۔حضرت عبد اللہ بن مسعود کے مالی حالات خدا تعالیٰ کے فضل سے اتنے اچھے ہو گئے تھے کہ آخری عمر میں آپ نے اپنا وظیفہ لینا چھوڑ دیا تھا۔521 اس فارغ البالی کی حالت میں جبکہ توے ہزار درہم آپ کا ترکہ تھا۔522 نے کفن کے بارے میں یہی وصیت کی کہ وہ سادہ چادروں کا ہو اور دوسو در ہم کا ہو اور وفات کے بعد حضرت عثمان بن مظعون کی قبر کے ساتھ دفن کیا جائے۔جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے حضرت عثمان نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور آپ کی تدفین جنت البقیع میں ہوئی۔آپ کو رات کو دفن کیا گیا۔ایک اپنے