اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 221
اصحاب بدر جلد 5 221 الله نہ سمجھنا۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں یہ کیسا عشق کا رنگ ہے جو حضرت عبد اللہ بن مسعود میں پایا جاتا تھا کہ انہوں نے چار رکعتیں پڑھ تو لیں مگر انہیں وہ ثواب بھی پسند نہ آیا جو محمد رسول اللہ صلی للی نیم کی پڑھی ہوئی دور کعتوں سے زیادہ تھا اور دعامانگی کہ الہی دور کعتیں ہی قبول فرمانا چار نہ قبول کرنا۔اب جو مقتدی تھے انہوں نے تو خلیفہ وقت کے پیچھے چار رکعتیں پڑھیں اور اطاعت میں پڑھ لیں۔نماز کا بھی ثواب ہے، اطاعت کا بھی ثواب ہے لیکن عبد اللہ بن مسعود کا اپنا ایک نظریہ تھا۔انہوں نے کہا کہ اطاعت میں نے کر لی لیکن اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی کہ میں یہ نہیں چاہتا کہ اس سے زیادہ ثواب لوں جتنا کہ آنحضرت صلی علیکم نے ہمارے سامنے نمازیں پڑھ کے، ہمیں حاصل کرنے والا بنایا اور اس لئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ دور کعتوں کو قبول کرنا۔اور پھر حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ پھر خلافت کی اطاعت کا بھی اس میں کیسا عمدہ نمونہ پایا جاتا ہے۔ان کو معلوم نہ تھا کہ حضرت عثمان نے کس وجہ سے دو کی بجائے چار رکعتیں پڑھی ہیں حالانکہ وجہ ایسی ہے جسے بہت سے لوگ صحیح قرار دیتے ہیں۔وہ بیوی کے گھر جاتے ہیں تو اسے سفر نہیں سمجھتے، بیٹے کے گھر جاتے ہیں تو اسے سفر نہیں سمجھتے، ماں باپ کے گھر جاتے ہیں تو اسے سفر نہیں سمجھتے پس یہ مسئلہ ٹھیک تھا۔اور پھر حضرت عثمان کی یہ احتیاط کہ باہر کے لوگوں کو دھو کہ نہ لگے اور اسلام میں کوئی رخنہ نہ پڑ جائے ان کے اعلیٰ درجہ کے تقویٰ کا ثبوت تھا۔حضرت عثمان کا بھی یہ بڑا اعلیٰ درجہ کا تقویٰ تھا، نیت تھی کہ ٹھوکر نہ لگے مگر حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کو اس وقت تک اس حکمت کا علم نہیں تھا کہ کیا وجہ تھی حضرت عثمان کی چار رکعتیں پڑھنے کی لیکن انہوں نے یہ نہیں کیا کہ نماز چھوڑ دی ہو۔بلکہ انہوں نے نماز بھی پڑھ لی اور خلافت کی اطاعت بھی کر لی اور بعد میں خدا تعالیٰ کے حضور عرض کر دیا کہ یا اللہ !میری دور کعتیں ہی قبول ہوں چار نہ ہوں۔یہ کیسی فرمانبر داری اور رسول کریم ملی می ریم کے قدم بہ قدم چلنے کی روح تھی جو ان میں پائی جاتی تھی۔یہی وجہ تھی کہ باوجود اس بات کے کہ صحابہ بالکل ان پڑھ تھے، سارے مکہ میں کہا جاتا ہے کل سات آدمی پڑھے لکھے تھے لیکن ساری دنیا پہ یہ لوگ چھا گئے۔516 یہ خاص نکتہ ہمیشہ یادر کھنا چاہیے پس یہ اطاعت تھی جس سے وہ مقام ان کو حاصل ہوا اور فتحیاب ہوئے۔پس یہ خاص نکتہ بھی ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے۔حضرت عبد اللہ بن مسعود کے اس عمل سے خلیفہ وقت کی اطاعت کا بھی اظہار ہو گیا اور عشق رسول صلی علی کر کے اعلیٰ مقام کا بھی اظہار ہو گیا۔اسی لئے آنحضرت صلی یکم نے مختلف مواقع پر حضرت عبد اللہ بن مسعود کے طریق کی ہمیشہ تعریف فرمائی اور یہی حقیقی طریقہ ہے فتنوں سے بچنے کا۔پس یہ وہ اسوہ ہے جو ہر احمدی کے لئے مشعل راہ ہے۔ایک دفعہ حضرت عمررات کے وقت ایک قافلہ سے ملے۔اندھیرے کی وجہ سے اہل قافلہ کو دیکھنا