اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 200 of 617

اصحابِ بدرؓ (جلد پنجم) — Page 200

اصحاب بدر جلد 5 200 کرواتے جاتے تھے اور لوگ کہتے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر و اُحد کے روز سب سے پہلے شہید ہوئے۔اس وقت یہ بھی لوگوں میں باتیں ہو رہی تھیں کہ سب سے پہلے جو شہید تھے عبد اللہ بن عمر و تھے۔سفیان بن عبد شمس نے آپ کو شہید کیا تھا۔پس آنحضرت صلی علیم نے ہزیمت سے قبل آپ کی نماز جنازہ ادا کی۔دوبارہ جو حملہ ہوا ہے اس سے پہلے ہی آپ کی نماز جنازہ ادا کر دی تھی اور فرمایا کہ عبد اللہ بن عمرو اور عمر و بن جموح کو ایک ہی قبر میں دفن کرو کیونکہ ان کے درمیان اخلاص اور محبت تھی۔نیز آپ صلی ا ہم نے فرمایا کہ ان دونوں کو جو دنیا میں باہم محبت کرنے والے تھے ایک ہی قبر میں دفن کرو۔وہ کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن عمر و سرخ رنگ کے تھے اور آپ کے سر کے اگلے حصے پر بال نہ تھے اور قد زیادہ لمبانہ تھا جبکہ حضرت عمرو بن جموع لمبے قد والے تھے اس لیے دونوں پہچان لیے گئے اور دونوں کو ایک ہی قبر میں دفن کر دیا گیا۔448 حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن میرے والد کو نبی کریم صلی ا ولم کے پاس اس حال میں لایا گیا کہ آپ کا مثلہ کیا گیا تھا یعنی جسم کے اعضاء کاٹ دیے گئے تھے خاص طور پر کان اور ناک۔آپ کی میت رسول اللہ صلی علیم کے سامنے رکھی گئی تو کہتے ہیں کہ میں ان کے چہرے سے کپڑا اٹھانے لگا تو لوگوں نے مجھے منع کیا۔پھر لوگوں نے ایک عورت کی چیخنے کی آواز سنی تو کسی نے کہا کہ وہ حضرت عبد اللہ بن عمرو کی بیٹی ہیں۔ان کا نام حضرت فاطمہ بنت عمرو تھا یا یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمرو کی بہن تھیں۔اس پر رسول اللہ صلی علی یم نے فرمایا مت رو کیونکہ فرشتے مسلسل اس پر پروں سے سایہ کیے ہوئے ہیں۔449 ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد کو جب احد کے روز لایا گیا تو میری پھوپھی ان پر رونے لگی تو میں بھی رونے لگا۔لوگ مجھے منع کرنے لگے مگر رسول اللہ صلی ال ولم نے مجھے منع نہیں فرمایا۔پھر رسول اللہ صلی لی ایم نے فرمایا تم لوگ اس پر روانہ رو،اللہ کی قسم! فرشتے اس پر مسلسل اپنے پروں سے سایہ کیے ہوئے تھے یہاں تک کہ تم نے اسے دفن کر دیا۔450 غزوہ احد کے شہداء کی نماز جنازہ غزوہ احد کے شہداء کی نماز جنازہ کے بارے میں مختلف آراء ہیں۔کافی اختلاف پایا جاتا ہے۔بخاری کی روایت میں حضرت جابر بن عبد اللہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی الی کم غزوہ احد کے شہداء میں سے دو دو آدمیوں کو ایک ہی کپڑے میں اکٹھا رکھتے اور پھر پوچھتے کہ ان میں سے کون قرآن زیادہ جاننے والا تھا۔جب ان میں سے کسی ایک کی طرف اشارہ کیا جاتا تو آپ صلی ا یہ کام اس کو لحد میں پہلے رکھتے یعنی قبر میں پہلے اتارتے اور فرماتے: میں قیامت کے دن ان لوگوں کا گواہ ہوں اور ان کو ان کے خونوں میں ہی ل الرس